ہر سال 21 ستمبر کو دنیا بھر کے ساتھ بھارت میں بھی ’’عالمی یومِ امن‘‘ منایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تقریریں ہوتی ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، امن کے ترانے گائے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے حالات واقعی امن کی عکاسی کرتے ہیں؟ کیا یہ دن صرف کاغذی تقریبات تک محدود ہے یا اس کا کوئی عملی مطلب بھی ہے؟آج بھارت کا منظرنامہ امن سے زیادہ نفرت کا ہے۔ گلی کوچوں میں فرقہ واریت کے نعرے گونجتے ہیں، جگہ جگہ مآب لنچنگ کی جارہی ہے، اقلیتوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کبھی حجاب پر پابندی، تو کبھی نماز پڑھنے پر تنازع، کبھی CAA اور NRC کے نام پر شہریت چھیننے کی سازش۔ ساتھ ہی ساتھ UAPA جیسے کالے قوانین،تو کبھی
Cow Protection Actکے تحت نوجوانوں کو ہراساں کرنا، کنورژن ایکٹ اور وقف ایکٹ جیسے قوانین اقلیتوں کے لیے خوف اور عدمِ تحفظ کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے ملک میں ہو رہا ہے۔بھارت کے مسلمان، عیسائی، دلت، آدیواسی (SC/ST) اور دیگر کمزور طبقات مسلسل حاشیے پر دھکیلے جا رہے ہیں۔ مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں لیکن ان پر سب سے زیادہ حملے ہوتے ہیں۔ ان کے تعلیمی ادارے نشانے پر ہیں، ان کے نوجوان جیلوں میں ڈالے جا رہے ہیں۔ مسلم لڑکیوں کو حجاب کی بنیاد پر تعلیم سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر ان کا مستقبل تباہ کیا جاتا ہے۔ عیسائی اداروں پر حملے اور SC/ST طبقے پر ظلم کی خبریں بھی آئے دن سامنے آتی ہیں۔ ایسے حالات میں یہ سوال اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ امن آخر کس کے لیے ہے؟
میڈیا اور سوشل میڈیا بھی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ نیوز چینلز TRP کے لیے نفرت کو بیچتے ہیں، اقلیتوں کو مجرم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز ٹرینڈز اور جعلی خبریں عام آدمی کے ذہن کو زہر آلود کرتی ہیں۔میڈیا نے اپنے آپ کو گروی رکھ دیا، میڈیا بک چکی ہے۔ حقیقت ہے کہ جب ملک کا میڈیا ہی انصاف کی جگہ تعصب کو اپنا لے تو امن کی امید کہاں باقی رہتی ہے؟
یہ تضاد صرف بھارت تک محدود نہیں۔ عالمی یومِ امن کے دن ہمیں فلسطین کے المیے کو بھی یاد رکھنا چاہیے جہاں اسرائیل کا غزہ پر وحشیانہ حملہ جاری ہے۔ قطر پر حملے، یوکرین کی جنگ، اور ایران-اسرائیل کشیدگی نے دنیا کو آگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ خود بھارت میں بھی منی پور کو کون بھول سکتا ہے اور آسام کے ڈیٹینشن کیمپس بنیادی انسانی حقوق پر ایک ایسی ضرب ہے جسے بھلایا نہیں جا سکتا ہے ۔ یہ سب مثالیں بتاتی ہیں کہ دنیا بھر میں ’’امن‘‘ کی باتیں محض قراردادوں اور بیانات تک محدود ہیں، عملی میدان میں ہر جگہ خون اور آنسو ہی ہیں۔ فلسطین کی ماؤں کی چیخیں اور یتیم بچوں کی سسکیاں یہ گواہی دے رہی ہیں کہ امن ’انصاف‘ کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر عالمی یومِ امن کے موقع پر ان زخموں کو نظرانداز کیا جائے تو یہ دن محض دکھاوا بن کر رہ جاتا ہے۔جمہوریت کا اصل اصول یہ ہے کہ ہر طبقے کو اس کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی ملے۔ لیکن بھارت میں یہ اصول اقلیتوں کے ساتھ ٹوٹتا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی15فیصد سے بھی زائد ہے مگر پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی 5 فیصد سے بھی کم ہے۔ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک سمجھتی ہیں، ان کے مسائل پر تقریریں تو کی جاتی ہیں مگر ٹکٹ دینے کے وقت انہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی جمہوریت کے چہرے پر سب سے بڑا داغ ہے۔
اقتدار کی سیاست میں مسلمان اکثر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں لیکن انہیں ’’king maker‘‘ نہیں کہا جاتا بلکہ ’’vote bank‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ ووٹ تو چاہئے مگر حق نہیں دیں گے—یہی رویہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم، روزگار، پولیس و فوج میں نمائندگی یا سیاسی ٹکٹ—ہر جگہ مسلمانوں کو محرومی کا سامنا ہے۔ ’’یومِ امن‘‘ کا مطلب تب ہی ہوگا جب ووٹ بینک کی یہ سیاست ختم ہو اور اقلیتوں کو حقیقی انصاف ملے۔اب وقت آ گیا ہے کہ اقلیتیں اور مظلوم طبقات صرف مظلومیت کا رونا نہ روئیں بلکہ اپنی آواز بلند کریں۔ تعلیم کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنائیں، سیاسی نمائندگی کے لیے دباؤ ڈالیں، اور سماج میں ہم آہنگی کے لیے عملی کوشش کریں۔ دانشور، صحافی اور ادیب اپنی تحریروں اور آواز سے یہ پیغام دیں کہ امن صرف طاقتور طبقے کا خصوصی حق نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
امن تقریروں اور سیمینارز کا نام نہیں۔ امن کا مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب، ہر طبقہ اور ہر شہری اپنے آپ کو برابر سمجھے اور اسے مساوی حقوق دیے جائیں۔ جب تک بھارت کے کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں اپنے کو دوسروں کے برابر نہیں پائیں گے، بھارت میں امن کا نعرہ کھوکھلا رہے گا۔ عالمی یومِ امن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امن ’انصاف‘ کے بغیر کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔









