وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اتوار کوبلیئنٹ کنونشن سینٹر میں اندور کی ترقی کو نئی تحریک دینے کے لیے ایک اہم میٹنگ کی صدارت کی۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے میٹنگ کے دوران ترقیات کی کئی سوغاتیں دیں۔ انفرااسٹرکچر کی ترقی کو رفتاردینے کے لیے کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے۔ اس میراتھن میٹنگ میں اندور اور اس کے وسیع میٹروپولیٹن علاقے کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے کئی بڑے فیصلے لیے گئے۔میٹنگ میں عوامی نمائندوں، محکموں کے افسران اور ماہرین نے شرکت کی اور شہر کے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، صنعت، تعلیم، میٹروپولیٹنائزیشن، مشرقی اور مغربی بائی پاس، اقتصادی راہداری، مقامی نقل و حمل، آئی ٹی، سیاحت، اور ماسٹر پلان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یہ میٹنگ اندور کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تمام پروجیکٹ مقررہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں گے، اور اندور آئندہ سالوں میں ملک کے سرکردہ میٹروپولیٹن شہروں میں شامل ہو گا۔
میٹنگ میں میٹرو پروجیکٹ کے روٹ کے تعین پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اصل تجویز پر نظر ثانی کے بعد بھی مسائل برقرار ہیں جس کے نتیجے میں میٹرو کا مرکزی حصہ مکمل طور پر زیر زمین ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اہم حصے کو زیر زمین بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت اس پروجیکٹ کے لیے تقریباً 900 کروڑ روپے کی لاگت برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اندور کے مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، میٹرو سے زیادہ سے زیادہ عوام کو فائدہ پہنچانے اور ٹریفک کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یہ ایلیویٹڈ کاریڈور پروجیکٹ اندور کے نقل و حمل کے لیے بہت اہم ہے۔ اس کی تعمیر جلد شروع ہو ۔ ایلیویٹڈ کاریڈور کے جنکشن، روٹری اور لمبائی کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے لیے جلد تکنیکی اور عوامی نمائندوں کی میٹنگ منعقد کی جائے ۔ میٹنگ میں بی آر ٹی ایس کے خاتمے کے بعد شہر کے نئے سائنسی ٹریفک سروے کی بنیاد پر مربوط ٹریفک پلان تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ یہ پروجیکٹ اندور کے ٹریفک مسائل کا اگلے 25-50 سالوں تک مستقل حل فراہم کرے گا۔
میٹنگ نے مستقبل پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ اندور میٹروپولیٹن ایریا کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا۔ مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اندور میٹروپولیٹن ایریا کو اجین، دیواس، دھار، رتلام، ناگدہ، بدناور، اور شاجاپور-مکسی علاقوں سے جوڑ کر تقریباً 14000 مربع کلومیٹر کے میٹروپولیٹن ایریا کو تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ اس خطے میں پانچ سے زیادہ بڑے ریلوے جنکشن، ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ، مستقبل کے اْجّین اور رتلام کے ہوائی اڈے، دہلی-ممبئی ایکسپریس وے، دہلی-ممبئی صنعتی کاریڈور، اور اندور-منماڑ ریل لائن شامل ہیں جس کے ساتھ اندور کو ایک بڑے تجارتی، صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔
اسٹارٹ اپ پارک اور انٹرنیشنل کنونشن سنٹر — اندور کو ایک نئی اقتصادی شناخت دے گا
میٹنگ میں MR-10 کے قریب بین الاقوامی سطح کا اسٹارٹ اپ پارک اور کنونشن سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ حکومت ہند بھی اس پروجیکٹ کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ اندور کو وسطی ہندوستان کا سب سے بڑا اختراعی مرکز بنائے گا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کنونشن سنٹر کو نئی دہلی میں بھارت بھون کی طرز پر تیار کیا جائے۔ بتایا گیا کہ کنونشن سینٹر کی لاگت تقریباً 550 سے 600 کروڑ روپے ہے۔ اسے تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ اسے پی پی پی موڈ کے ذریعے چلانے کی تجویز ہے۔ اس کی اندرونی گنجائش 5,000 اور آؤٹ ڈور کی گنجائش 10,000 ہوگی۔