نئی دہلی 15نومبر:اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اوپن اجلاس میں بھارت کے مستقل نمائندے پروتھوی رینی ہریش نے اپنے خطاب میں UNSC کے فرسودہ ڈھانچے، غیر شفاف طریقۂ کار اور غیر منصفانہ نمائندگی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سلامتی کونسل کو شفاف، جوابدہ، مؤثر اور واقعی نمائندہ ادارہ بنانا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔بھارتی سفیر نے کہا : ’’سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے ڈھانچے کا مرکزی ستون ہے، جس کی ذمہ داری عالمی امن اور سلامتی کا تحفظ ہے۔ تاہم، اس کے محض 15 رکنی ڈھانچے اور غیر شفاف طریقۂ کار نے اس کی مؤثریت اور بھروسے کو نقصان پہنچایا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جس دور میں دنیا ایک کے بعد ایک بحران کا سامنا کر رہی ہو، اس وقت سلامتی کونسل کے اندر شفافیت، کارکردگی اور جامعیت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ بھارت نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل کے ذیلی اداروں کے سربراہوں کا انتخاب شفاف ہونا چاہیے اور اسے ان ممالک کے ہاتھوں میں نہیں دیا جانا چاہیے جن کے مفادات یا سابقہ کردار کھلی تضاد پیدا کرتے ہوں۔









