نئی دہلی 16مئی: کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس کے بعد صدمے کے باعث کئی طلبہ کی خودکشی کے معاملے پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس تعلق سے ایک طویل پوسٹ کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مودی حکومت میں ’امرت کال‘ بھرتی-امتحان کے طلبہ کے لیے ’مِرت کال‘ ثابت ہو رہا ہے۔ خبروں کے مطابق کئی طلبہ اور طالبات نے نیٹ پیپر لیک ہونے کے صدمے کے باعث خودکشی کر لی ہے۔ لکھیم پور کھیری کے رتک مشرا، دہلی کی 20 سالہ انشکا پانڈے، راجستھان کے جھنجھنو سے پردیپ میگھوال اور گوا میں رہ رہے بنگلورو کے طلبہ سب نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہے۔‘‘ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کانگریس لیڈر خودکشی کرنے والے طلبہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’کسی نے بچپن سے خواب دیکھا، کسی نے خاندان کی امیدوں کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیا، سالوں تیاری کی، لیکن مودی حکومت کے بدعنوان اور نکمے نظام نے ان کے خوابوں کو روند دیا۔
‘‘ ملکارجن کھڑگے کے مطابق مودی راج میں 90 سے زائد پیپر لیک ہو چکے ہیں۔ 9 کروڑ سے زائد طلبہ اور ان کے خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ بے روزگاری کی آگ پہلے ہی نوجوانوں کا مستقبل برباد کر رہی ہے۔ بی جے پی کی سرپرستی میں چلنے والا پیپر لیک مافیا حکومت کے منصفانہ اور شفاف طریقے سے امتحانات کرانے کے دعووں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔