نئی دہلی، 20 جولائی (یو این آئی) پرائم والی بال لیگ (پی وی ایل) کے حالیہ سیزن 4 کی نیلامی میں سب سے زیادہ بولی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں سے ایک شمیم الدین عمارمبتھ کا کہنا ہے کہ سیزن 1 کی نیلامی کے دوران منتخب نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ایک بہتر کھلاڑی بننے کی ترغیب ملی۔یو این آئی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں، شمیم الدین نے بتایا کہ کس طرح انتخاب نہ کیے جانے کی مایوسی نے ان کے اندر آگ بھڑکا دی۔انھوں نے کہا ’’مجھے مایوسی ہوئی۔ پھر بھی، سیزن کے دوران مجھے متبادل کھلاڑی کے طور پر کھیلنے کا موقع ملا اور میں فاتح ٹیم کا حصہ تھا اور اسی مایوسی کی وجہ سے میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کے بعد کے سیزن میں مجھے بولی حاصل کرنی ہے۔میں نے اپنی ٹریننگ اور مشق میں مزید کوششیں کیں‘ ‘۔شمیم الدین ہندوستانی فضائیہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
شمیم الدین، جو مڈل بلاکر کے طور پر کھیلتے ہیں، کو کولکاتہ تھنڈربولٹس کے وسط سیزن میں زخمی ہونے کی صورت میں کھلاڑی کے متبادل کے طور پر لایا گیا تھا اور انھوں نے پہلے سیزن کے دوران فرنچائز کے لیے ٹرافی جیتنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔بعد میں ممبئی میٹیرز نے انھیں منتخب کرلیا جہاں انھوں نے دوسرااور تیسرا سیزن کھیلا۔ اس سال انہیں کالی کٹ ہیروز نے جون میں چوتھے سیزن کی نیلامی کے دوران 22.5 لاکھ روپے میں خریدا تھا۔ یہ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ بولی تھی جواُن پر اور جیروم ونیت اور ونیت چودھری پر لگائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ پی وی ایل کی وجہ سے ہندوستانی والی بال کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگز سے آفرز ملنا شروع ہو گئی ہیں۔انہوں نے کہا’’جب سے پی وی ایل شروع ہوا ہے، غیر ملکی لیگوں کی طرف سےہندوستانی کھلاڑیوں میں کافی دلچسپی رہی ہے۔ مجھے یو اے ای اور مالدیپ سے آفرز ملے ہیں۔ لیکن میرے لیے ہندوستانی فضائیہ کے لیے کھیلنا ایک ترجیح ہے۔ چراغ (یادو) مالدیپ میں کھیل رہے ہیں، جان جوزف یو اے ای میں کھیل رہے ہیں۔ پی وی ایل کے ذریعے ان کو توجہ ملی ‘ ‘۔
مالا پورم کے رہنے والے شمیم، جو اگلے سال ہندوستان کی ایشین گیمز والی بال ٹیم کا حصہ بننے کی امید رکھتے ہیں،نے کہا کہ پرائم والی بال لیگ (پی وی ایل)نے کیرالہ میں اس کھیل کی مقبولیت کو ایک مختلف سطح پر پہنچا دیا ہے۔انہوں نے کہا’’والی بال کیرالہ میں مقبول تھا، لیکن ایک بار لیگ آنے کے بعد اسے ٹی وی پر بڑے پیمانے پر مقبولیت ملی۔ مداحوں کےگروپوں نے ریاست میں اس کھیل کی مزیدترقی پر زور دیا ہے۔ مثال کے طور پر، کالی کٹ ہیروز مداحوں کا گروپ چیمبڈا مقامی طور پر بہت فعال ہے۔ ‘ ‘
والی بال میں اپنے ذاتی سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، شمیم الدین نے کہا کہ ابتدامیں وہ فٹ بال کھیلتے تھےاور پھراتفاقاً والی بال کی طرف راغب ہوگئے۔انہوں نے بتایا’’میں اپنے گاؤں میں فٹ بال کھیلتا تھا۔ ایک بار جب میں اپنے گاؤں میں کھیل رہا تھا، قریب ہی والی بال کا میچ تھا۔ ہوا یہ کہ، دو لوگوں کی کمی تھی۔تو ہم میں سے دو لمبے لمبے لڑکوں والی بال کے میچ میں شامل کرلیا گیا۔ اس طرح میری شروعات ہوئی۔ یہ تب کی بات ہے جب میں گیارہویں یا بارہویں کلاس میں پڑھتا تھا۔‘ ‘ملاپورم میں اپنی اسکول کی تعلیم کے بعد، شمیم الدین نے کوچی کےکالج میں داخلہ لے لیا، جہاں انہیں والی بال ٹیم کے لیے چنا گیا۔ انہوں نے کئی مقامی ٹورنامنٹ کھیلے اور بالآخر ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف)ٹیم کے لیے منتخب ہو گئے۔
انہوں نے پرائم والی بال لیگ کے چوتھے سیزن کے دوران کچھ کھلاڑیوں کے نام بتائے جن کے کھیل پر نظر رکھی جائے۔شمیم الدین نے بتایا’’جیروم ونیت، ونیت چودھری ہمیشہ جارح کھلاڑی رہے ہیں جنہوں نے برسوں سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور نوجوانوں میں محمد جاسم اور جسجوت سنگھ آنے والی لیگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔‘ ‘پرائم والی بال لیگ کا سیزن چار 2 اکتوبر 2025 کو شروع ہوگا۔ مقام کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔









