نئی دہلی15جولائی: اوڈیشہ کے بالاسور ضلع میں ایف ایم کالج کی طالبہ کی دلخراش موت پر ملک گیر سطح پر غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ اسی سلسلے میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے آج دہلی میں واقع ’اوڈیشہ بھون‘ کے باہر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ 20 سالہ طالبہ نے مبینہ جنسی ہراسانی اور ادارہ جاتی بےحسی سے تنگ آکر خودسوزی کی تھی، جس کے بعد تین دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ احتجاج کی قیادت این ایس یو آئی دہلی کے صدر آشش لمبا نے کی، جنہوں نے سخت الفاظ میں اس سانحے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ خودکشی نہیں ہے، بلکہ بی جے پی اور اے بی وی پی کے گٹھ جوڑ کے ذریعے کیا گیا قتل ہے۔ یہ نظام جو خواتین کو تحفظ دینے کے بجائے مجرموں کو بچاتا ہے، اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ این ایس یو آئی انصاف ملنے تک خاموش نہیں بیٹھے گی۔‘‘ مظاہرے میں طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ہاتھوں میں بینر، پلے کارڈز اور نعرے لیے مظاہرین نے متاثرہ کو انصاف دلانے اور تعلیمی اداروں میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ کئی مظاہرین نے ’’جس نے ظلم کیا، وہی سسٹم قاتل ہے‘‘ اور ’’بی جے پی-اے بی وی پی ہائے ہائے‘‘ جیسے نعرے لگائے۔
احتجاج کے دوران موقع پر بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد پولیس نے احتجاج پر قابو پانے کی کوشش کی اور متعدد این ایس یو آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اس کے باوجود مظاہرین پرعزم رہے اور پرامن طریقے سے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ این ایس یو آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ متاثرہ کے لیے انصاف کی جنگ جاری رکھے گی اور ایسے نظام کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کرے گی جو خواتین کے تحفظ میں ناکام ہو چکا ہے۔ طلبہ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ یہ سانحہ صرف ایک فرد کا نہیں، بلکہ اس ملک میں موجود ہزاروں خواتین کی خاموش جدوجہد اور سسٹم کی ناکامی کی علامت ہے۔