تنسکیا27نومبر: آسام اسمبلی میں آج ایک ایسا بل پاس ہو گیا، جس کے بعد ریاست میں ایک سے زیادہ شادی کرنا جرم بن گیا ہے۔ آسام اسمبلی نے ’آسام انسداد تعدد ازدواج بل، 2025‘ کو پاس کر دیا۔ اس کے بارے میں یہ ضرور واضح کیا گیا ہے کہ چھٹے درج فہرست خطوں اور درج فہرست قبائلی طبقہ پر نافذ نہیں ہوگا۔ حکومت کے مطابق ان طبقات کی مقامی روایات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چھوٹ دی گئی ہے۔ اس بل کے مطابق پہلی شادی جائز ہونے پر دوسری شادی کرنا جرم ہوگا، جس کے لیے 7 سال تک کی قید اور جرمانہ کا التزام ہے۔ پہلی شادی چھپا کر دوسری شادی کرنے پر سزا بڑھ کر 10 سال تک ہو جائے گا۔ بل میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ جرم دہرانے پر ہر بار سزا دوگنی ہوگی۔ بل پر بحث کے دوران وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن پارٹیوں سے گزارش کی ہے کہ انھوں نے اس بل میں ترمیم سے متعلق جو تجاویز پیش کی ہیں، وہ واپس لے لیں۔ حالانکہ اے آئی یو ڈی ایف اور سی پی آئی (ایم) نے اپنی تجاویز واپس نہیں لیں، جنھیں ایوان نے صوتی ووٹوں سے خارج کر دیا۔ اس بل کے التزامات سے متعلق بات کی جائے تو قانون کے دائرے میں وہ لوگ بھی آئیں گے جو تعدد ازدواج کو فروغ دینے یا چھپانے میں مدد کرتے ہیں۔ ان میں مکھیا، قاضی، پجاری، رشتہ دار وغیرہ شامل ہیں۔ ایسے لوگوں کو 2 سال تک کی سزا اور ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص جانتے ہوئے ناجائز شادی کرواتا ہے تو اسے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا جرمانہ اور 2 سال تک کی قید ہوگی۔ نئے قانون میں تعدد ازدواج کے قصوروار پائے گئے لوگ سرکاری ملازمت کے لیے اہل نہیں ہوں گے۔ سرکاری منصوبوں کا بھی وہ فائدہ نہیں لے سکیں گے۔ کسی بھی مقامی بلدیہ کے انتخاب میں حصہ لینے سے بھی وہ قاصر ہوں گے۔
نریش مینا غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے پر بیٹھے
باراں، 27 نومبر (یو این آئی) راجستھان کے باراں ضلع ہیڈکوارٹر پر انتا اسمبلی سیٹ سے آزاد امیدوار رہے نریش مینا کا کسانوں اور عام لوگوں کے 32 مسائل اور مطالبات کو لے کر ضلع کلیکٹریٹ پر دوسرے دن جمعرات کے روز بھی احتجاج جاری رہا۔ مسٹر مینا عام لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے بدھ کی شام سے ہی دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ دھرنے کی خبر کے بعد ضلع بھر سے بڑی تعداد میں متاثرین اور حمایتی دھرنے کے مقام پر پہنچ رہے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ باراں ضلع میں کسانوں کے مسائل کے حل کے مطالبے کو لے کر بدھ کی شام کسان لیڈر نریش مینا اچانک گدا اور رضائی ساتھ لے کر کلیکٹریٹ پہنچے اور غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ان کے بیٹھتے ہی بڑی تعداد میں کسان اور حمایتی موقع پر جمع ہو گئے۔ کلیکٹریٹ پر ایک سبھا بھی ہو رہی ہے، جس میں کئی مقررین کی تقاریر جاری ہیں۔









