پٹنہ 8نومبر:بہار اسمبلی انتخاب میں بھوجپوری اسٹار اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان جاری زبانی جنگ نے کافی شدت اختیار کر لی ہے۔ چھپرہ سے مہاگٹھ بندھن کے حمایت یافتہ آر جے ڈی امیدوار کھساری لال یادو نے ایک ساتھ بی جے پی کے 4 اسٹار پرچارک منوج تیواری، روی کشن، دنیش لال یادو نرہوا اور پون سنگھ کو ہدف تنقید بنایا ہے اور انہیں کھلا چیلنج بھی دیا ہے۔ پون سنگھ اور نرہوا کے ٹھگے جانے والے بیان اور بقیہ الزامات کا جواب دیتے ہوئے کھساری لال یادو نے میڈیا سے کہا کہ ’’میں غریب فیملی کا بیٹا ہوں، میری اوقات نہیں تھی کہ گریجویشن کر سکوں، لیکن وہ لوگ امیر ہیں، پی ایچ ڈی بھی کر سکتے ہیں۔ ان این ڈی اے کے تمام لیڈران کو 4 دنوں کے اندر پاگل قرار دوں گا۔ ان کی زبان دیکھیے، کیسے بول رہے ہیں، لیکن میں ایک مہذب گھرانے سے آتا ہوں اور ان کی طرح برابری نہیں کر سکتا۔‘‘ نرہوا کے بیان ’ایسا کوئی سگا نہیں، جسے کھساری نے ٹھگا نہیں‘ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کھساری لال یادو نے کہا کہ یہ تو نرہوا ہی بتا سکتے ہیں کہ میں نے انہیں کتنا ٹھگا ہے۔ انہوں نے اور ان کی پارٹی نے تو پورے بہار کو ٹھگا ہے۔ میں روزی-روٹی کی بات کر رہا ہوں، وہ مذہب کی بات کر رہے ہیں۔ ’رام‘ مخالف ہونے کے بیان پر انہوں نے کہا کہ ’’میں کبھی رام مخالف نہیں رہا ہوں، میں نے رام پر گانا گایا، فلم بنائی۔ لیکن جے رام جی کے بولنے سے نوکری نہیں ملے گی، یہ لوگ صرف مذہب کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں اور اصل مسائل سے توجہ ہٹاتے ہیں۔‘