کولکاتا5مئی: مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس کی سپریمو ممتا بنرجی نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخاب میں ہاری نہیں ہیں بلکہ 100 سیٹوں پر ووٹ کی لوٹ ہوئی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ممتا بنرجی نے کہا کہ ہماری لڑائی صرف بی جے پی سے نہیں تھی، ہمیں الیکشن کمیشن سے بھی لڑنا پڑا تھا۔ الیکشن کمیشن کا رویہ مکمل طور سے جانبدارانہ تھا۔ جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ لوک بھون جا کر استعفیٰ نہیں دیں گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ مجھے لوک بھون کیوں جانا چاہیے؟ اگر مجھے حلف لینا ہوتا تو میں چلی جاتی۔ انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں استعفیٰ دے دوں گی؟ میں نہیں جاؤں گی۔ میں سڑک پر تھی اور سڑک پر ہی رہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کے بعد ای وی ایم مشینوں میں گڑبڑی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ 2 مرحلوں میں انتخاب مکمل ہونے کے بعد انہوں نے ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا اور افسران کو ٹرانسفر کرنا شروع کر دیا۔ وہ اپنی ہی پارٹی کے بیوروکریٹس کو لے آئے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ میں نے اس طرح کا انتخاب کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے 2004 میں بھی ایسا ظلم نہیں دیکھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی، راہل گاندھی، ادھو ٹھاکرے اور ہیمنت سورین سے لے کر انڈیا الائنس کے کئی رہنماؤں نے مجھ سے بات کی۔ اکھلیش یادو کل آ رہے ہیں۔ ممتا بنرجی کا کہنا ہے کہ مجھے بوتھ سے دھکا مار کر نکالا۔ میں ایک خاتون تھی، لیکن میرے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتے ہیں۔ اگر میرے ساتھ ایسا سلوک کیا تو دیگر لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ ٹی ایم سی رہنما نے پرعزم انداز میں کہا کہ انڈیا الائنس کے لیڈران ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم واپسی کریں گے، یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ اسی طرح سے وہ مہاراشٹر اور ہریانہ جیتے، لیکن ہم لوگوں نے ٹائیگر کی طرح لڑائی لڑی ہے۔
مئو پولیس کی بڑی کارروائی
مئو، 5 مئی ( یو این آئی)اتر پردیش کے ضلع مئو میں منظم جرائم اور پیشہ ور مجرموں کے خلاف جاری مہم کے تحت پولیس نے آئی ایس-191 کے ارکان اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر ‘ویریفیکیشن(تصدیق) کی کارروائی انجام دی ہے۔ یہ مہم پولیس سپرنٹنڈنٹ کملیش بہادر کی براہِ راست نگرانی میں چلائی گئی۔









