نئی دہلی 9جنوری: ایک اہم فیصلے میں، دہلی ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ ازدواجی تنازعہ کی صورت میں عورت کو حمل جاری رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ایسا کرنے سے عورت کے جسمانی وقار کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کے ذہنی صدمے میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ریمارکس ایک عرضی کی سماعت کے دوران آیا جس میں ایک خاتون نے اپنے خلاف دائر فوجداری مقدمے کو چیلنج کیا تھا۔پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اسقاط حمل کے لیے شوہر کی اجازت لازمی نہیں ہے۔ اس فیصلے کو خواتین کی تولیدی آزادی اور خود مختاری کے عکاس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عدالت نے خاتون کو تعزیرات ہند کی دفعہ 312 کے تحت الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کا مقصد خواتین کو سزا دینا نہیں بلکہ ان کی صحت اور حقوق کا تحفظ ہے۔ یہ کیس ایک ایسی خاتو ن سے جڑا ہے جس نے ازدواجی تناؤ کے درمیان، ازدواجی کشیدگی کے دوران اپنے 14 ہفتے کے حمل کو طبی طور پر ختم کر دیا تھا۔ اس کے شوہر نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 312 کے تحت فوجداری شکایت درج کرائی تھی ۔