13جولائی برسی پر خصوصی
شہر ادب بھوپال کی ممتاز ادبی و علمی شخصیت شاہد اسلم خالدی کو ہم سے بچھڑے ہوئے دو سال کا عرصہ گزر گیا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہد بھائی ہمارے درمیان ہی موجود ہیں اور ابھی انکا فون آئے گا اور کہیں گے یا ر ساجد تیار رہنا فلاں نشست میں شرکت کیلئے چلنا ہے۔ کاش ایسا ہوپاتا ، موت ایک تلخ حقیقت ہے۔ علمی اور ادبی خاندانی وراثت کے امین اور ادبی انجمن ’بزم دانش ‘ کے روح رواں شاہد اسلم خالدی اپنے نام کے مشابہ پاکیزہ اوصاف کے حامل اور سب کے محبوب، ا نتہانی خلیق و ملنسار، خوش اخلاق و خوش گفتار اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ دارالادب بھوپال کی مایہ ناز شخصیت مرحوم علامہ خالد شرقی صاحب کےلائق فرزند تھے۔ والد محترم کی طرح ہی بہترین شاعروں میں شمار تھے اور محفل کی جان اور دوستوں کی شان ہوا کرتے تھے۔ آپ نے شاعری میں بھی خوب نام روشن کیا، شاہد بھائی کے نعتیہ کلام کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ اپنی دلکش اور مترنم آواز کے ذریعہ شاہد بھائی سامعین کا دل جیت لیا کرتے تھے۔ آپ کو تعلیم کے شعبہ میں بھی نمایاں حیثیت حاصل تھی اور آپ نے اردو ادب اور پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا۔ اردو زبان کے کئی حوالوں سے شاہد بھائی بھوپال میں مقبول رہے اسکےعلاوہ آپ بہترین ترجمہ نگار، خوش نویس یا خطاط بھی تھے اور نوابی دور کے فارسی اور اردو کی آمیزش سے لکھے گئے دستاویزات کا ترجمہ کرنے میں آپ کو خصوصی مہارت حاصل تھی۔آپ نے اردو اکادمی کی شعری نشستوں سمیت کئی کل ہند مشاعروں میں بھی شرکت کی۔ گزشتہ سال ’بزم حامد حسن شاد‘ کے روح رواں جناب ساجد حسن نے انہیں ’شانِ بھوپال ‘ ایوارڈ سے نوازاتھا۔دنیا وی معاملات کے ساتھ شاہد بھائی دینی مجالس میں بھی پیش پیش رہتے تھے اور تبلیغی جماعت سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ آپ روزانہ بھوپال تبلیغی مرکز میں دو گھنٹے بیٹھ کر وہاں کا کام کاج بھی سنبھالتے تھے اور بعد نمازِ فجر جماعتوں کی روانگی پر غور و فکر کرتے تھے۔ آپ کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ کے ساتھ جو بھی جماعت میں گیا اُس کا وہ سفر ہمیشہ کیلئے یادگار بن گیا کیونکہ جماعت کا ذمہ دار انہیں کو بنایا جاتا تھا بھلے ہی جماعت میں کوئی مفتی یا حافظ شامل ہو۔ شاہد اسلم خالدی ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ جن کا نام ذہن میں آتے ہی ایک نور مجسم پیکر اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ شاہد بھائی سے میری پہلےپہلی ملاقات صادق بھائی کی اتوارہ واقع S.T.D-P.C.Oکی دُکان پر ہوئی تھی ، پہلی ہی ملاقات میں ، میں اُن سے بے حد متاثر ہوا اور اسکے بعد تو وہ میری زندگی میں ایسے رچ بس گئے انہوں نے میرے دل میں ایک خاص جگہ بنا لی اور آخری وقت تک شاہد بھائی سے میری دوستی قائم رہی، وہ ایک بڑے بھائی کی طرح میری رہنمائی بھی کیا کرتے تھے۔اُن کے انتقال سے مجھے گہرا صدمہ پہنچا۔اُنکے یوں اچانک چلے جانے سے میرا اور میرے عزیز و اقارب کا بڑا خسارہ ہوا ہے۔ اللہ پاک شاہد بھائی کی بال بال مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائےاور انکے درجات بلند کرے۔(آمین) آخر میں شاہد بھائی کادو نعتیہ شعر ملاحظہ فرمائیے۔
ایک قرآن کاغذپر ایک قرآن زمین پر چلتا ہے
ایک قرآن کتابی ہے ایک قرآن مثالی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینہ ہم نے گزارا رب کی مرضی مان
کاش ہمارا پورا جیون بن جائے رمضان









