بھوپال:20؍دسمبر: حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے فرمایا تھا کہ کاش مجھے انگریزی آتی تو میں اہلِ یورپ کو سمجھاتا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اور اصل حکمت ہمارے پاس ہے۔مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بھی انگریزی زبان سے ناواقفیت کا احساس ہوا تھا تو انہوں نے اپنے صاحبزادے مفتی محمد تقی صاحب عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کو اس کے لیے تیار کیا۔اور یہ بات سچ ہے کہ مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب وہ کام کر رہے ہیں جس کا خواب اسلاف نے دیکھا تھا۔ آپ نے پورے ملک میں نوجوان علماء کی ایک ٹیم تیار کی ہے، لیکن ان کی تعداد باطل کے مقابلے آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ نوجوان علماء کو اس میدان میں اور مزید حصہ لینے کی سخت ضرورت ہے۔
خیر آج جناب جاوید اختر اور مفتی شمائل عبداللہ ندوی صاحب کے درمیان ڈیبٹ (مباحثہ) دیکھنے سننے کا موقع ملا، اول تا آخر حاضر رہا، بڑی دلی مسرت و فرحت حاصل ہوئی۔مفتی شمائل صاحب ندوی واقعی بہترین تیاری کر کے تشریف لائے تھے۔ مفتی صاحب نے جاوید اختر صاحب کو “وجود باری تعالیٰ” کے دلائل کے ایسے اینٹی بایوٹک انجکشن لگائے ہیں کہ کفر و الحاد جراثیم بہت حد تک مدھم پڑ گئے ہوں گے۔ جاوید اختر صاحب کو احقر ایک منجھا ہوا کھلاڑی سمجھ رہا تھا؛ اس لیے مفتی صاحب کے لیے خوب دعا کرہا تھا؛ لیکن جاوید اختر صاحب میرے گمان پر کھرے نہیں اترے، انہوں نے اپنے تمام نظریات کی بنیاد صرف برٹرینڈ رسل کے فلسفے پر رکھ رکھی، اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔
انہوں نے حسب معمول خدا کے خلاف اپنی دریدہ دہنی جاری رکھی۔ مگر مفتی صاحب نے اپنی شرافت کا دامن نہیں چھوڑا! جس کا اچھا اثر رہا۔اخیر میں مفتی صاحب نے اکثریت والی بات سے جاوید اختر کو مات بھی دی جس سے وہ رجوع پر مجبور ہوئے اور کسی قدر نرم بھی پڑے۔نوجوان علماء کو اس میدان میں مزید آگے آنے کی سخت ضرورت ہے؛ کیوں کہ اس وقت احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کا فریضہ انجام دینا نہایت ضروری ہے۔
مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کی مجمع میں موجودگی بڑی عمدہ بات رہی، اس سے شمائل ندوی صاحب کو بہت تقویت ملی۔ مفتی شمائل احمد صاحب ندوی کا اسلوب علمی، استدلال منطقی اور خود اعتمادی لا جواب اور اعلیٰ سطح کی تھی۔ جناب جاوید اختر علمی و منطقی گفتگو کے بجائے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرتے رہے۔ سب سے اہم بات یہ رہی کہ اپنی ضد پر قائم رہنے کے لیے مشہور جاوید اختر صاحب خود اس نظریہ پر علانیہ رجوع کرنے پر مجبور ہو گئے کہ اکثریت ہی صحیح اور غلط کا معیار ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جس خود اعتمادی اور منطقی قوت سے مفتی شمائل ندوی نے اس مکالمے کو انجام تک پہنچایا، اُس نے طلبۂ مدارس کے تعلق سے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اُن کو مزید ہمت اور توفیق بخشے اور ساری زندگی اُن سے حق کی نصرت و اشاعت کا کام لیتا رہے۔ آمین۔