سرونج (ودیشہ ) 15/ ستمبر: گزشتہ 13 ستمبر کو جانشینِ شیخ الاسلام، نائب صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید اسجد مدنی صاحب، غازی ملت حضرت مولانا غازی ولی احمد صاحب کی خصوصی دعوت پر ضلع ودیشہ کے سرونج تشریف لائے۔حضرت کے قافلے کا سفر بھوپال سے شروع ہوا اور راستے میں جگہ جگہ شاندار اور پرجوش استقبال کیا گیا۔ پہلے دو استقبالیہ بیریسیا میں ہوئے، اس کے بعد شُمش آباد چوراہا، ڈنگرواڑا، جمونیا اور لکھار سے کرمیڑی تک ہزاروں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ والہانہ خیر مقدم کیا گیا۔ کرمیڑی میں جمعیۃ ہیلتھ اکھاڑا کی جانب سے لاٹھی اکھاڑے کا شاندار مظاہرہ کیا گیا، جس میں مفتی اعظم مدھیہ پردیش حضرت مفتی محمد احمد خان صاحب اور حافظ شفیق صاحب نے بھی اپنے فن کا عملی مظاہرہ کیا۔
سرونج پہنچنے پر جامعہ ریاض الاسلام چک مہو میں نوجوانوں نے بھی جوش و خروش سے لاٹھی اکھاڑا پیش کیا۔ شہر سرونج میں حضرت کا تقریباً ڈھائی گھنٹے تک تاریخی جلوس کی شکل میں والہانہ استقبال کیا گیا۔
رات ساڑھے آٹھ بجے بڑا بس اسٹینڈ کے قریب سہاگ گارڈن میں “جلسہ سیرت النبی و اصلاحِ معاشرہ” منعقد ہوا، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے اور رات ساڑھے بارہ بجے تک مجمع جمی رہا۔
جلسے کی صدارت غازی ملت حضرت مولانا غازی ولی احمد صاحب نے فرمائی۔ مہمانِ خصوصی حضرت مولانا مفتی شہاب الدین صاحب جنہوں نے سیرتِ نبوی پر مدلل خطاب کیا۔ اس کے بعد مفتی محمد احمد خان صاحب نے جمعیۃ علماء اور اکابرینِ دیوبند کی تاریخ پر ولولہ انگیز تقریر کی۔
اسی دوران حضرت مفتی محمد یوسف مہتمم مدرسہ فاروقیہ منڈی مامورہ نے پرجوش خطاب کرتے ہوئے یہ بات خاص طور پر کہیں کہ غازی ملت پچھلے پچاس برسوں سے پورے علاقے میں والہانہ دینی و سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام کی توجہ ان تاریخی خدمات کی طرف مبذول کرائی اور خراجِ تحسین پیش کیا۔
پروگرام کا اختتام حضرت مولانا سید اسجد مدنی صاحب کی ایمان افروز اور ولولہ انگیز تقریر پر ہوا، جس میں آپ نے جمعیۃ علماء ہند کی 225 سالہ شاندار خدمات اور حالیہ دور میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے جرات مندانہ کردار پر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی سیرتِ رسول ﷺ اور اصلاحِ معاشرہ پر فکر انگیز خطاب فرمایا۔
اسٹیج کی نظامت مفتی علی احمد قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع ودیشہ) نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
دوسرے دن کا پروگرام (14 ستمبر 2025)
14 ستمبر کو صبح سرونج کے تبلیغی مرکز میں حضرت نے “ایمان و یقین” پر پرنور خطاب فرمایا۔ بعد ازاں جامعہ ریاض الاسلام سرونج میں دعا کروائی۔ راستے میں مشہور سماجی شخصیت حاجی سبحان صاحب نے حضرت کا استقبال کیا۔
اس کے بعد حضرت کا قافلہ منڈی بامورہ اور کوروائی کی طرف روانہ ہوا۔ پتھریا، فتح پور جوڑ، بھوراسا اور دیگر مقامات پر پُرجوش استقبال کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
کوروائی پہنچنے پر شہر بھر میں تاریخی استقبال ہوا۔ یہاں ایک بچیوں کے مدرسے کی سنگِ بنیاد کی تقریب میں حضرت نے شرکت فرمائی۔ پھر جامعہ فاروقیہ سیہورا (یادگار حضرت قاری خلیل احمد فاروقی رحمہ اللہ) میں حضرت نے نہایت مؤثر خطاب کیا۔آخر میں جامع مسجد کوروائی میں نمازِ ظہر کے بعد حضرت نے ایمان افروز نصیحتیں فرمائیں۔ واپسی کے موقع پر سرونج کے مدرسہ فخر الدین ٹیکنیکل ایجوکیشن ٹرسٹ میں طلبہ کو دعائیں دے کر حضرت نے سفر کا اختتام کیا۔