نئی دہلی یکم جنوری: بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم کی جانب سے بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے حوالے سے کیے گئے ایک متنازعہ تبصرہ نے بڑا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ ادھر ہندو مہاسبھا کے ایک رکن نے ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ ضلعی صدر میرا راٹھور نے شاہ رخ خان کی زبان کاٹنے پر ایک لاکھ روپے انعام کی پیشکش کی ہے۔ مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کے حوالے سے شاہ رخ خان کے متنازع تبصرہ کے معاملے میں فلم اداکار شاہ رخ خان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہ رخ خان کی نیت غلط نہیں ہے۔ شاہ رخ خان کو غدار اور دہشت گرد کہنا شرمناک اور غلط ہے۔ بنگلہ دیش بھارت کا دوست ملک ہے۔ دیوکی نندن اور سنگیت سوم کے بیانات سراسر غلط اور غیر منصفانہ ہیں۔
ہندو مہاسبھا نے فلم اداکار شاہ رخ خان کی جانب سے آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑی کو خریدنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ضلعی صدر میرا راٹھور نے شاہ رخ خان کی زبان کاٹنے پر 100,000 روپے انعام کا اعلان کیا۔ ادھر پھلہاری مہاراج نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر شاہ رخ خان کو بنگلہ دیش بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دنیش پھلہاری مہاراج نے آج وزیر اعظم کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ شاہ رخ خان جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کا قتل عام ہوا ہے، اس کے باوجود انہوں نے بنگلہ دیشی کرکٹرمستفیض الرحمان کو کروڑوں میں خریدا۔ پھلہاری مہاراج نے مطالبہ کیا ہے کہ شاہ رخ خان کی جائیداد ضبط کر کے انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بنگلہ دیشی دہشت گردوں سے روابط ہوسکتے ہیں۔ ملک میں شاہ رخ خان جیسے تمام لوگوں کی فہرست بنائی جائے اور انہیں بنگلہ دیش ڈی پورٹ کیا جائے۔









