لکھنؤ 28 اکتوبر(یواین آئی)الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے نابالغ عصمت دری متاثرہ کو ایک اسکیم کے تحت معاوضہ نہ دینے پر سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ کورٹ نے افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ تین دن میں قواعد کے مطابق متاثرہ کو تین لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی کریں، نیز تاخیر کے لیے 15 دن میں اسے دو لاکھ روپے کا اضافی معاوضہ بھی دیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاستی حکومت کو یہ چھوٹ بھی دی ہے کہ وہ متاثرہ کو قواعد کے مطابق ملنے والی معاوضے کی رقم میں تاخیر کے ذمہ دار افراد سے دو لاکھ روپے کی وصولی کر سکتی ہے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی بھی کر سکتی ہے۔ جسٹس شیکھر بی سراف اور جسٹس پرشانت کمار کی ڈویژن بنچ نے یہ حکم متاثرہ کی جانب سے اس کے والد کے ذریعے دائر کردہ عرضی پر دیا۔ عرضی میں متاثرہ کو رانی لکشمی بائی مہیلا سمان کوش کے سال 2015 کے قواعد کے تحت معاوضہ دلانے کی درخواست کی گئی تھی۔ متاثرہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ متاثرہ کے ساتھ اسی سال مئی میں پیش آئے عصمت دری کے واقعے کے بعد جون کے مہینے میں اس کی چارج شیٹ بھی داخل گئی تھی۔ اس کے بعد قواعد کے مطابق ایک مہینے کے اندر اسے دو قسطوں میں تین لاکھ روپے کا معاوضہ ملنا چاہیے تھا، جو نہیں دیا گیا۔ مجبور ہو کر ستمبر میں یہ عرضی دائر کرنی پڑی۔ ادھر، سرکاری وکیل نے کہا کہ معاوضے کی ادائیگی کے لیے افسران نے متاثرہ سے اس کا اکاؤنٹ نمبر مانگا تھا، جو 16 اکتوبر کو دے دیا گیا۔
اس پر، عدالت نے کہا کہ آج تک متاثرہ کو ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ یہ پولیس اور قانونی افسران کی افسوسناک حالت سمجھ سے باہر ہے۔ کورٹ نے کہا کہ ایسے سنگین جرم میں متاثرہ کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے معاوضے کی ادائیگی جلد از جلد یا فوری طور پر کی جانی چاہیے۔ ایسے میں متاثرہ کو معاوضے کے لیے عرضی دائر کرنی پڑی، اس کے لیے وہ ہرجانہ پانے کی بھی حقدار ہے۔