نئی دہلی30دسمبر: این ایس یو آئی (نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا) نے آج نئی دہلی کے جنتر منتر پر تریپورہ کے طالب علم اینجل چکما کے قتل معاملہ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ دہرادون میں تعلیم حاصل کرنے گئے اینجل چکما کا قتل کچھ شرپسندوں کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ اس کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری کی قیادت میں کینڈل مارچ نکالا گیا۔ واضح رہے کہ شمال مشرقی ریاست تریپورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم اینجل چکما کو صرف اس کی شناخت کے سبب بے رحمی سے پیٹا گیا۔ اسے نسلی گالیاں دی گئیں اور بار بار ’چینی‘ کہہ کر بے عزت کیا گیا۔ این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ اینجل کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ سماج میں گہرائی تک اپنی جڑیں جما چکی نسل پرستی اور نفرت کو ظاہر کر رہا ہے۔ جرم کی سنگینی کے باوجود اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے فوری کارروائی نہیں کی۔ تقریباً 20 دنوں تک انتظامیہ خاموش بیٹھا رہا اور ملزمین کھلے عام گھومتے رہے۔ جب اینجل کی موت ہو گئی، تو عوامی غصہ سامنے آنے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی۔ این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اب استثنیٰ نہیں ہیں۔
بلکہ بی جے پی و آر ایس ایس کے اس زہریلے ماحول کا نتیجہ ہیں جو لگاتار نفرت، تقسیم اور تعصب پھیلاتا ہے۔ یہ منظم نفرت جرائم پیشوں کا حوصلہ بڑھاتا ہے اور انھیں سزا سے آزادی دلاتا ہے۔ کینڈل مارچ کے دوران این ایس یو آئی صدر ورون چودھری نے کہا کہ ’’اینجل چکما کا قتل نفرت نے کیا اور انصاف کا قتل بی جے پی حکومت کی خاموش نے کر دیا۔ ایک بربریت ناک حملہ پر 20 دنوں تک کارروائی نہ کرنا حکومت نہیں بلکہ ملی بھگت ہے۔ کسی ہندوستانی کو ’چینی‘ کہہ کر پیٹ پیٹ کر مار دینا اس خطرناک سوچ کو ظاہر کرتا ہے جسے آج جواز عطا کیا جا رہا ہے۔‘









