نئی دہلی 28جولائی: بی جے پی کی حکمرانی والی ہریانہ کی نائب سنگھ سینی حکومت نے بی جی پی کے راجیہ سبھا رکن سبھاش برالا کے بیٹے وکاس برالا کے خلاف سخت فیصلہ لیا ہے۔ حکومت نے انہیں تقرری کے 10 روز بعد ہی اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) کے عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔ دراصل وکاس برالا پر جنسی ہراسانی کا الزام تھا، اس لیے ان کی تقرری کے بعد سے ہی یہ معاملہ تنازعات میں گھرا ہوا تھا۔ واضح ہو کہ 18 جولائی کو ریاست کے گورنر بنڈارو دتاتریہ نے 97 نئے لاء آفیسرز کی تقرری کو منظوری دی تھی۔ اس فہرست میں وکاس برالا کا بھی نام تھا۔ انہیں اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) بنایا گیا تھا۔ ان کی تقرری کے بعد سے ہی اپوزیشن مسلسل سینی حکومت پر حملہ آور تھی اور جنسی ہراسانی کے ایک ملزم کو لاء افسر بنانے پر حکومت کو ہدف تنقید بنا رہی تھی۔ دراصل وکاس ایک انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسر کی بیٹی کو ہراساں کرنے کے ملزم ہیں۔ یہ معاملہ اکتوبر 2017 کا ہے، جب ان کے والد بی جے پی ہریانہ یونٹ کے سربراہ تھے۔ وکاس اور ان کے دوست آشیش کمار پر چنڈی گڑھ کی ایک عدالت نے ایک سینئر آئی اے ایس آفیسر کی بیٹی کا پیچھا کرنے اور اس کے اغوا کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔ وکاس برالا اس معاملے میں ضمانت پر باہر ہیں اور مقدمہ ابھی عدالت میں زیر التوا ہے۔ آئی اے ایس آفیسر کی متاثرہ بیٹی ورنیکا کُنڈو نے وکاس برالا کو اے اے جی بنائے جانے پر سخت اعتراض کیا تھا۔ یہی نہیں 45 آئی اے ایس افسران نے بھی نائب سنگھ سینی کو خط لکھ کر اس کی تقرری کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ معاملہ بڑھنے پر حکومت نے وکاس برالا کو ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔








