نئی دہلی27فروری: آر ایس ایس کے آل انڈیا پبلسٹی چیف سنیل امبیڈکر نے نوجوانوں اور آر ایس ایس کے درمیان ہم آہنگی کو لے کر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ آج کے نوجوان پُرامید اور پُرجوش ہیں، اور آر ایس ایس ان کے لیے ایک سماجی انفراسٹرکچر کے طور پر کام کررہا ہے۔ روبیکا لیاقت کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کسی پر مسلط نہیں ہوتی، بلکہ یہ آج کے نوجوانوں کے دلوں سے نکلتی ہے۔ اس سمٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ پورا پلیٹ فارم ہندوستان کی اندرونی طاقت اور خود اعتمادی کو دنیا کے سامنے رکھنے کے لیے تیار ہے۔ یہ سمٹ ہندوستان کے مستقبل کی تعمیر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے ، جہاں ملک کی ترقی کے لیے ایک درست خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔سنیل امبیڈکر کا ماننا ہے کہ سنگھ آج کے پُرامید ہندوستان کی حقیقی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کونے کونے میں لوگ آر ایس ایس میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی خواہشات قوم کی تعمیر سے گہرائی سے جڑی ہوئی ہیں۔ آج کے نوجوان خود کو اور اپنے ملک کو تیزی سے ترقی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے ’وندے ماترم‘ کا نعرہ فخر کی بات ہے، تنازعہ کا نہیں۔ جب روبیکا لیاقت نے سوال کیا کہ کیا یہ نعرے تھوپے جا رہے ہیں،تو سنیل امبیڈکر نے اسے صاف طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو سنگھ کو 100 سال کا طویل سفر مکمل کرنے میں بڑی مشکل پیش آتی۔ سنگھ سالوں اور صدیوں کے حساب سے کام کرتا ہے۔
یہ مسلسل مکالمے کا ایک نامیاتی عمل ہے، جو زمین پر موجود لوگوں سے نکل کر سامنے آتا ہے ۔