نئی دہلی، 7 نومبر (یو این آئی) ملک میں ہاکی کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر جمعہ کے دو سابق عظیم کھلاڑیوں نے اس کھیل کے ارتقاء پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ صدی میں ہندوستانی ہاکی نے جو بلندیاں حاصل کی تھیں، انہیں دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔نئی دہلی کے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں ہندوستانی ہاکی کی صد سالہ تقریبات کے دوران ہاکی کے مشہور کھلاڑی اسلم شیر خان نے اس موقع کو ایک جذباتی لمحہ قرار دیا۔ اسلم شیر خان آج اعزاز حاصل کرنے والے سابق کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ انہوں نے 1975 میں کوالالمپور میں ہونے والے ہاکی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ملیشیا کے خلاف برابری کا گول اسکور کیا تھا۔ یو این آئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا،”ایسے مواقع ماضی کی یادوں کو تازہ کر دیتے ہیں۔ یہ لمحے بہت جذباتی ہوتے ہیں۔ ہمارا خاندان کئی دہائیوں سے ہاکی سے وابستہ ہے۔ میرے والد احمد شیر خان کو 1936 کے برلن اولمپکس میں ہاکی میں طلائی تمغہ ملا تھا، وہ میجر دھیان چند کے ساتھی کھلاڑی تھے، اور پھر میں نے بھی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ اس لیے یہ موقع ہمارے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔” 1975 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل میں، اسلم شیر خاں آخری سات منٹ میں بطور متبادل کھلاڑی میدان میں اترے اور پنالٹی کارنر کو گول میں تبدیل کر کے میچ کو اضافی وقت تک لے گئے۔ اس کے بعد ہرچرن سنگھ نے گول کر کے ہندوستان کو فائنل میں پہنچادیا، جہاں ہندوستان نے پاکستان کو 2-1 سے شکست دے کر اپنی تاریخ کا پہلا اور واحد ورلڈ کپ کا خطاب جیتا تھا۔اسلم شیر خاں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ ہاکی نے ملک میں واپسی کی ہے اور کہا کہ مختلف ٹورنامنٹس کے انعقاد سے اس کھیل کو فورغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا، ” گزشتہ ایک دہائی میں کافی بہتری آئی ہے۔ اب ہم انتہائی مسابقت والے کھیل میں مسلسل دنیا کی ٹاپ پانچ ٹیموں میں شامل ہیں۔
آج کل کئی ٹورنامنٹس کھیلے جا رہے ہیں، جن میں ہاکی انڈیا لیگ (ایچ آئی ایل) بھی شامل ہے۔ یہ لیگ دنیا کے بہترین بین الاقوامی کھلاڑیوں کو ایک ساتھ جمع کرتی ہے، اور مضبوط لیگ ہندوستانی ہاکی کو مزید مستحکم بنانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں ہاکی نے برسوں کے دوران نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کا سہرا ٹیکنالوجی کے استعمال اور غیر ملکی کوچ کے ذریعہ ہندوستانی کھلاڑیوں کی تربیت کو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، ”کھیل کو وقت کے ساتھ بدلنا ہی تھا، آج کے دور میں تجزیے اور تربیت میں ٹیکنالوجی کا بڑا کردار ہے۔ غیر ملکی کوچ بھی لیگ اور قومی سطح پر ہمارے کھلاڑیوں کو تربیت دے رہے ہیں، اس لیے حکمت عملی میں تبدیلی ضروری تھی۔”
ہندوستان کے بہترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے ظفر اقبال کو بھی اس موقع پر اعزاز سے نوازا گیا۔ یو این آئی سے بات کرتے ہوئے ظفر اقبال نے خوشی کا اظہار کیا کہ ہاکی کے سو سال مکمل ہونے کا جشن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب ہندوستانی ہاکی پھر سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔