نئی دہلی7اکتوبر: دلت نوجوان ہری اوم کی رائے بریلی میں ہوئی ماب لنچنگ کے بعد پورے ملک میں غم و اندوہ کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ این ایس یو آئی نے آج اس واقعہ کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اتر پردیش کے رائے بریلی میں ’بابا‘ گروپ سے منسلک لوگوں کے ذریعہ کیے گئے اس بہیمانہ قتل نے ایک بار پھر یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ خاص طور سے دلتوں کی حفاظت اور نسلی تشدد پر قابو پانے میں اس حکومت کی ناکامی ظاہر ہو گئی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق جب ہری اوم نے اپنی جان کی بھیک مانگتے ہوئے راہل گاندھی کا نام لیا تو بھیڑ نے جواب دیا ’ہم بابا والے ہیں‘۔ یہ کہہ کر شر پسند دلت نوجوان کو بے رحمی سے پیٹنے لگے اور زخموں کی تاب نہ لا کر وہ موت کی نیند سو گیا۔ این ایس یو آئی نے شرپسندوں کے ذریعہ دیے گئے مذکورہ بالا خوفناک بیان کو آر ایس ایس-بی جے پی نظریات کے تحت پھیلائی جا رہی نسل پرستی قرار دیا ہے۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر ورون چودھری نے چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں ریاست کے وزیر داخلہ کی رہائش کے باہر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی۔ اسی دوران دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، ہریانہ اور کئی دیگر اضلاع میں بھی این ایس یو آئی لیڈران و طلبا نے سڑکوں پر اتر کر ہری اوم کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔ اس اندوہناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ورون چودھری نے کہا کہ ’’ہری اوم کی ماب لنچنگ صرف ایک دلت نوجوان کا قتل نہیں، بلکہ انسانیت اور آئین پر براہ راست حملہ ہے۔ یوگی حکومت کی خاموشی اس کی نسلی تفریق اور انصاف دینے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آر ایس ایس-بی جے پی کا سسٹم مستقل دلتوں اور راہل گاندھی کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے، جو ہمیشہ محروموں کی آواز بنے رہے ہیں۔ جب تک ہری اوم کے کنبہ کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ، سرکاری ملازمت نہیں ملتی اور قاتلوں پر تعزیرات ہند کی دفعہ 302 اور انسداد ایس سی-ایس ٹی مظالم ایکٹ کے تحت سخت کارروائی نہیں ہوتی، این ایس یو آئی خاموش نہیں بیٹھے گی۔‘‘









