ڈاکٹر رونق جمال (درگ چھتیس گڑھ)
چناؤ کے دوران مودی جی کی ایک ہی بات کی رٹ اور جملے بازی پارٹی کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ جیسے بنگال میں دی دی کی رٹ ، لوک سبھا کے چناؤ میں مجھے نیج کہا گیا ہے ۔ مجھے نیج کہا گیا ہے کی رٹ۔ مہاراشٹر میں اورنگ زیب کی رٹ ، بودھ دھرم کے لوگوں نے آواز اٹھائ تو اورنگزیب کو بھول گئے ۔ مانا کے جب تک عوام مودی جی کے نفرت پھیلانے والے جملوں کو نہیں سمجھے تھے تب تک پاکستان ، پلوامہ خوب چلا لیکن پہلگام نے پول کھول دی ہے ۔ اسلئے چناؤ میں پہلگام کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے ۔ آپریشن سیندور کو بھی ٹرمپ نے بے جان کردیا ہے ۔ کسی کے بھی دباؤ میں سیز فائر نہیں کرناچاہیے تھا ۔ اب بہار میں جنگل راج کی رٹ بھی بے اثر ثابت ہورہی ہے ۔ وجہ ہے ج سے جنگل راج اور ج سے جملے بازی ۔ جملے بازی اب ملک کے ایک سو چالیس کروڑ عوام کو ہضم نہیں ہو رہی ہے ۔ کیونکہ جملے بازی کی ہوا نکل گئی ہے ۔ جنگل راج کیا تھا کیسا تھا ۔ سنا ہے دیکھا نہیں ہے کیونکہ جنگل راج بہار تک ہی محدود تھا ۔ شاید اس وقت جنگل راج بھی لالو پرساد یادو کو کمزور اور بدنام کرنے کے لئے اچھالا گیا جملہ ہو گا۔ جنگل راج تو اب بہار میں دکھائی دے رہا ہے ۔ ہر دن گولی باری ۔ کھلے عام قتل ۔ چوری ڈاکہ پولس کی پٹائی لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ وغیرہ عام بات ہے لیکن اب جملے بازی سے سارا ملک واقف ہو گیا ہے ۔ چاہے وہ پندرہ پندرہ لاکھ کا جملہ ہو یا دو کروڑ نوکریوں والا جملہ ہو ، پکوڑے تلنے والے جملے نے ملک کے نوجوان کو بہت مایوس کیا ہے ۔ مہنگائی سے سارا ملک پریشان ہے ۔ جبکہ مہنگائ کم کرنے والے جملے نے بے انتہا اثر دکھایا تھا ۔ اور بے انتہا ووٹ دلا کر اقتدار تک پہنچایا تھا لیکن آسمان چھوتی مہنگائی نے لوگوں کا جینا حرام کردیا ہے ۔ گٹر کی گیس سے چائے بنانے والا جملہ قہقہے زار ہے ۔ اور تمام جملوں پر بھاری جملہ ہے۔ میری پیدائش با لاجی کل نہیں ہے ۔ اس جملے نے ساری دنیا کو حیران کر دیا ہے ۔ اور مودی جی کی دماغی حالت کو تشویش ناک بنادیا ہے ۔ مذہبی جملے بازی نے بھی خوب مذاق بنایا ہے ۔ جیسے مجھے گنگا میا نے بلایا ہے ۔ میں گنگا کا بیٹا ہوں ۔ میرا ہریانہ سے گہرا رشتہ ہے ۔ میرا گجرات سے پیدائشی رشتہ ہے ۔ میرا چھتیس گڑھ سے بہت پرانا رشتہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔ جہاں جاتے ہیں وہاں سے بے بنیاد رشتہ بنالیتے ہیں اور رشتہ صرف اور صرف جملہ ہوتا ہے ۔ یہ جملے بازی پچیس سال پرانے جنگل راج سے بھی زیادہ خطرناک اور بھیانک ہے ۔ جملے بازی سفید جھوٹ ہوتی ہے ۔ اب عوام اس جملے بازی کے چکر میں آنے والے نہیں ہے ۔ کیونکہ امیت شاہ جی نے خود اعتراف کیا ہے کے پندرہ لاکھ وعدہ نہیں جملہ تھا ۔