بھوپال:07؍اکتوبر:(پریس ریلیز) معاشی حالات اور وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے دور ہونے والے طلبہ کو تعاون فراہم کرنے کی سمت میں ’’ڈریم بگ ایجوکیشن‘‘اور’’ بھوپال سرونگ ہیومانٹی (BSH)‘‘ اور کی جانب سے مشترکہ طور پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس پہل کا مقصد طلبہ کو صرف تعلیمی مواد فراہم کرنا ہی نہیں، بلکہ ان کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے ضروری مالی تعاون، وسائل اور رہنمائی تک رسائی یقینی بنانا بھی ہے۔ڈریم بگ ایجوکیشن کی بانی الفیہ سہیل کی قیادت میں چلائی جا رہی اس پہل میں طلبہ کی ضرورت کے مطابق براہ راست مالی مدد، تعلیمی وسائل کی تقسیم، مینٹورشپ اور رہنمائی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر طالبات، نوجوان خواتین اور معاشی طور پر کمزور و محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تک مواقع پہنچانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔منتظمین کے مطابق تعلیم کے شعبے میں ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ بہت سے طلبہ معاشی وجوہات کی بنا پر اپنی تعلیم یا ہنرمندی کی ترقی کو آگے نہیں بڑھا پاتے۔ ایسے میں بروقت ملنے والی مدد ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور آگے بڑھنے کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔
BSH کے بانی سید فیض نے کہا، ”کسی طالب علم کی صلاحیت کا تعین صرف اس کی معاشی حالت سے نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری کوشش ہے کہ جن طلبہ کو وسائل یا رہنمائی کی ضرورت ہے، انہیں صحیح وقت پر تعاون مل سکے۔ تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی یہ کوشش طویل مدت میں خاندان اور معاشرے دونوں کے لیے مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔“BSH کی جانب سے بتایا گیا کہ تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی اس کی سماجی خدمات کے اہم شعبوں میں شامل ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ایسے اقدامات کو تعاون دیا جا رہا ہے، جن کے ذریعے طلبہ کو سیکھنے، اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور مستقبل کے مواقع تک رسائی حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
اس پہل کا دائرہ بھوپال تک محدود نہ رکھتے ہوئے دیہی اور ضرورت مند طبقات تک تعلیمی مواقع پہنچانے کی سمت میں بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ معاشی رکاوٹیں کسی بھی طالب علم کی تعلیم اور مستقبل کے امکانات کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہ بنیں۔تعلیم تک رسائی بڑھانے کے ساتھ طلبہ کو مناسب وسائل اور رہنمائی سے جوڑنا ہی اس پہل کا بنیادی مقصد ہے۔









