کلکتہ، 13 فروری (اسٹاف رپورٹر) ہندوستان کی فعال مغربی بنگال اردو اکادمی میں فورٹ ولیم کالج کی اردو خدمات کی تاریخی اہمیت پر سہ روزہ قومی سیمینار کا زیر صدارت اکادمی کے وائس چیئرمین جناب ندیم الحق ممبر راجیہ سبھانے مولانا ابوالکلام آزاد آڈیٹوریم میں افتتاح ہوا، جس کے مہمان خصوصی او پی مشرا سابق وائس چانسلر کلیانی یونیورسٹی تھے اور کلیدی خطبہ پروفیسر سورنجن داس وائس چانسلر آڈامس یونیورسٹی نے پیش کیا۔ انہوں نے دورانِ خطاب تفصیل سے فورٹ ولیم کالج کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کے قیام سے برٹش اور انڈین اسکالر نے نوآبادیاتی ہندوستان میں زبان، ادب اور تعلیم کے شعبوں میں نئے فکری دور کا آغاز کیا تھا جس کے گوناگوں اثرات برصغیر کے معاشرہ پر مرتب ہوئے خاص طور پر زبان کی ترقی و ترویج کی وہ راہیں کھلیں جس نے پورے نوآبادیاتی علمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، حالانکہ یہ کالج 1800ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے انگریز افسروں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کیلئے قائم کیا تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ مشرقی علوم اور لسانی تحقیق کا بڑا مرکز بن گیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالانکہ کالج کا نام فورٹ ولیم پر رکھا گیا لیکن یہ رائٹر بلڈنگ کلکتہ سے کام کرتا تھا اور اس نے 1854ء تک علمی و ادبی خدمات انجام دیکر ملک کی ادبی تاریخ اور اردو نثر کی کایا پلٹ کر دی۔ انہوں نے مثالوں کے ساتھ کالج کی گوناگوں خدمات پر روشنی ڈالی۔
مہمان خصوصی اوپی مشرا نے اپنی تقریر میں زور دیکر کہا کہ یورپ اور افریقہ اپنی کثیر ثقافتی معاشرت کے لیے مشہور ہیں، پاکستان بھی اردو زبان اور اس کی تہذیب کے لیے پہچانا جاتا ہے، ہمارے ملک نے اپنے سیکولر نظام اور قومی اتحاد کو مضبوطی سے اپنا کر دنیا میں خاص شناخت ضرور بنائی ہے لیکن آج اسے غلو آمیز قوم پرستی سے شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور اس کی قیمت آج کے جو حکمراں ادا کر رہے ہیں وہ بہت زیادہ اور نقصان دہ ہے، اس پر غور و فکر اصلاح کی وقت رہتے ضرورت بڑھتی جارہی ہے۔ نائب چیئرمین اکادمی ندیم الحق نے اکادمی کے پروگراموں کے ذریعہ زبان و ادب کی جو خدمت ہو رہی ہے۔ اس کے اثرات کو نمایاں کئے اور بتایا کہ فورڈ ولیم کالج کے بعد اکادمی کا آئندہ پروگرام حضرت امیر خسرو کی شخصیت و خدمات پر مرکوز ہوگا۔ افتتاحی تقریب کی نظامت ڈاکٹر پیر احمد ایوارڈ کمیٹی کے رکن نے انجام دی۔
اس کے بعد سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کی پہلی نشست کی صدارت معروف ادیب پروفیسر صفدر امام قادری (پٹنہ) نے اور نظامت ڈاکٹر عمر غزالی نے انجام دی۔ جبکہ مقالات پروفیسر عباس رضا نیر (لکھنؤ)، ڈاکٹر صبا اسماعیل (کلکتہ)، ڈاکٹر فیضان احمد، ڈاکٹر شبنم پروین، ڈاکٹر تنویر بن ناظم ابوذر ہاشمی اور انیل سنگھ نے فورٹ ولیم کالج کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پیش کئے۔ صاحب صدر پروفیسر قادری نے ساتوں مقالات کا بالتفصیل جائزہ لیا۔ اس موقع پر مغربی بنگال اردو اکادمی کے ترجمان ’روح ادب‘ کا اجراء بھی ہوا۔ جس میں فورٹ ولیم کالج پر ہی مضامین شائع ہوئے ہیں۔ آخر میں اکادمی کی سکریٹری محترمہ نزہت زینت کے شکریہ پر سیمینار کا اختتام ہوا۔