اکرا/نئی دہلی (یو این آئی)وزیر اعظم نریندر مودی نے آج گھانا کی پارلیمنٹ کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کیا، یوں وہ گھانا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے والے پہلے ہندوستانی وزیر اعظم بن گئے۔ یہ اجلاس پارلیمنٹ کے اسپیکر البان کنگز فورڈ سمانا باگبن کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے ارکانِ پارلیمنٹ، سرکاری حکام اور ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ یہ خطاب ہندوستان اور گھانا کے درمیان تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ تھا، جو باہمی احترام اور جمہوری اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو ان دونوں ممالک کو جوڑتی ہیں۔اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے ہندوستان اور گھانا کے درمیان تاریخی تعلقات کو اجاگر کیا، جو آزادی کی مشترکہ جدوجہد اور جمہوریت و جامع ترقی سے وابستہ عزم کے ذریعے پروان چڑھے۔ انہوں نے گھانا کے صدرمعزز جان ڈرامانی مہاما اور گھانوی عوام کا ان پر قومی اعزاز عطا کرنے پر شکریہ ادا کیا، اور اس اعزاز کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کی علامت قرار دیا۔ وزیر اعظم نے عظیم گھانوی رہنما ڈاکٹر کوامےنکرومہ کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد، امن اور انصاف کے نظریات ہی مضبوط اور دیرپا شراکت داری کی بنیاد ہوتے ہیں۔وزیر اعظم نے ڈاکٹر کوامے نکرومہ کے ایک مشہور قول کا حوالہ دیا، جنہوں نے کہا تھا: “وہ قوتیں جو ہمیں متحد کرتی ہیں، وہ اندرونی اور ان اثرات سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں جو ہمیں جدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔” ڈاکٹر نکرومہ نے جمہوری اداروں کی تعمیر کے طویل المدتی اثرات پر زور دیا تھا۔ اس حوالے سے وزیر اعظم نے جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔وزیر اعظم نے گھانا کے متحرک پارلیمانی نظام کی تعریف کی اور دونوں ممالک کی مقننہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تبادلوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے “گھانا-ہندوستان پارلیمانی دوستی سوسائٹی” کے قیام کا خیر مقدم کیا۔ وزیر اعظم نے 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہندوستانی عوام کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان، گھانا کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان، جو جمہوریت کی جنم بھومی ہے، نے جمہوری اصولوں کو اپنی ثقافت کا حصہ بنا لیا ہے۔ وزیر اعظم نے ہندوستان میں جمہوریت کی گہری اور متحرک جڑوں کو اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت کی تنوع سے بھرپور جمہوری طاقت “اتحاد میں طاقت” کے نظریے کی واضح مثال ہے — وہی قدر جس کا اظہار گھانا کے جمہوری سفر میں بھی ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، عالمی وباؤں اور سائبر خطرات جیسے موجودہ عالمی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی حکمرانی میں گلوبل ساؤتھ کی اجتماعی آواز کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تناظر میں انہوں نے ہندوستان کی جی20 صدارت کے دوران افریقی یونین کو مستقل رکن کے طور پر شامل کیے جانے کو ایک اہم قدم قرار دیا۔