کولکاتہ،5 مارچ (یواین آئی )نیوزی لینڈ کے اوپنر فن ایلن نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو فائنل کی راہ دکھا دی۔ ایڈن گارڈنز، کولکتہ میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں ایلن نے جنوبی افریقہ کے بالنگ اٹیک کے پرخچے اڑا دیے اور محض 33 گیندوں پر سنچری مکمل کر کے کرکٹ کی دنیا کو حیران کر دیا۔
بدھ کے روز کھیلے گئے اس اہم میچ میں جنوبی افریقہ کے 170 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے فن ایلن نے ناقابلِ شکست 100 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ نے یہ ہدف صرف 12.5 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس اننگز کے دوران ایلن نے کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کیے:
تیز ترین ورلڈ کپ سنچری:ایلن نے کرس گیل کا 47 گیندوں پر سنچری کا 2016 کا ریکارڈ توڑ دیا۔روہت شرما اور ڈیوڈ ملر پیچھے رہ گئے:فل ممبر ممالک کے خلاف تیز ترین ٹی ٹوئنٹی سنچری (35 گیندیں) کا روہت شرما اور ڈیوڈ ملر کا ریکارڈ اب فن ایلن کے نام ہو گیا ہے۔ ناک آؤٹ مرحلے کا سب سے بڑا اسکور:انہوں نے تلکارتنے دلشان کے 2009 کے 96 رنز کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ کر سیمی فائنل یا فائنل میں سب سے بڑی اننگز کا اعزاز حاصل کیا۔ چھکوں کی برسات:اپنی اننگز میں 8 چھکے اور 10 چوکے لگا کر وہ کسی بھی ورلڈ کپ ناک آؤٹ میچ میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے کھلاڑی بن گئے۔
غیر معمولی اسٹرائیک ریٹ:پوری اننگز کے دوران ایلن نے صرف 4 ڈاٹ بالز کھیلیں۔
اس شاندار فتح کے بعد نیوزی لینڈ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچ گیا ہے۔









