بھوپال 23جنوری:وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا ہے کہ کسی بھی ریاست کی شناخت صرف اس کے نقشے سے نہیں بلکہ اس کی کامیابیوں سے بھی ہوتی ہے۔ آج مدھیہ پردیش اپنی مؤثر پالیسیوں اور ان کے کامیاب نفاذ کی وجہ سے نہ صرف ملک میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک نئی پہچان قائم کر رہا ہے۔ ریاست صنعتی ترقی کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے صنعت کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے یہ بات ورلڈ اکنامک فورم داووس کی سالانہ میٹنگ میں شرکت کے بعد جبل پور میں مہاکوشل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ تقریب میں کہی۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ سال 2014 سے پہلے کی صورتحال اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کی قیادت میں بھارت مسلسل ترقی کے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے اور آج دنیا کا ہر ملک تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے بھارت سے جڑنے کے لیے بے تاب ہے۔ اس پروگرام میں لوک تعمیرات کے وزیر مسٹر راکیش سنگھ، میئر مسٹر جگت بہادر سنگھ انو، رکنِ پارلیمنٹ مسٹر آشیـش دوبے، رکنِ اسمبلی مسٹر اشوک روہانی، ڈاکٹر ابھیلاش پانڈے سمیت تجارتی اور کاروباری تنظیموں کے عہدیدار موجود تھے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ داووس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم کی میٹنگ میں 200 سے زائد ممالک نے شرکت کی، لیکن سب سے زیادہ توجہ بھارتی وفد پر مرکوز رہی۔ بھارت سرکار کے ساتھ ساتھ ملک کی 10 ریاستوں نے بھی اس عالمی پلیٹ فارم پر اپنی مؤثر موجودگی درج کرائی، جن میں مدھیہ پردیش خاص طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ریاست نے عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش میں ہوا سے توانائی، شمسی توانائی اور پاور سیکٹر کے ذریعے سستی بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور صرف 2 روپے 10 پیسے فی یونٹ کی شرح سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ کسی بھی ریاست کی ترقی کے لیے اقتصادی خوشحالی نہایت ضروری ہے۔ اگر ریاست اقتصادی طور پر مضبوط نہ ہو تو ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں دشواریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مدھیہ پردیش آج ایک اقتصادی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں سڑک، بجلی، پانی اور لینڈ بینک جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کر کے ہر طرح کے صنعت و کاروبار کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ سال 2025 کو مدھیہ پردیش میں صنعت اور روزگار کا سال منایا گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ بھارت کی ترقی کی شرح دنیا میں سب سے تیز ہے اور اس میں بھی مدھیہ پردیش تمام ریاستوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ مدھیہ پردیش آبادی کے لحاظ سے ملک میں پانچویں نمبر پر ہے، جبکہ نوجوان آبادی کے معاملے میں پہلے نمبر پر ہے۔ ریاست کی مؤثر پالیسیوں کی بدولت بے روزگاری کی شرح کے لحاظ سے مدھیہ پردیش ان تین ریاستوں میں شامل ہے جہاں بے روزگاری سب سے کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تریپورہ اور تلنگانہ جیسی چھوٹی ریاستوں کے مقابلے میں، تقریباً 9 کروڑ آبادی ہونے کے باوجود مدھیہ پردیش میں بے روزگاری کی شرح کم ہونا ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاست میں فی کس آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو خوشحالی کی علامت ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت روزگار پر مبنی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل مراعات فراہم کر رہی ہے۔ صنعتوں کے قیام پر 30 فیصد کیپیٹل سبسڈی دی جا رہی ہے، جبکہ ایم ایس ایم ای سیکٹر کو 60 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ ریاستی وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے نئی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سب سے تیز رفتار سے میڈیکل کالج مدھیہ پردیش میں قائم کیے جا رہے ہیں۔ میڈیکل کالج کھولنے کے خواہشمند صنعت کاروں کو 25 ایکڑ زمین صرف ایک روپے کی شرح سے فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجی شعبے کے میڈیکل کالجوں میں نیٹ کے ذریعے منتخب طلبہ کو فیس کی ادائیگی کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے قرض کی سہولت بھی دی جائے گی۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ شہری علاقے صنعتی ترقی کے باعث تیزی سے آگے بڑھتے ہیں۔ ریاست کے بڑے شہروں کی ترقی کے لیے صنعتی کاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ جبل پور شہر کی مجموعی ترقی کے لیے ماسٹر پلان تیار کیا جائے گا، جس میں جبل پور سے 50 کلو میٹر کے دائرے میں آنے والے تمام شہروں کو شامل کیا جائے گا۔
وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آج اگر ملک میں کہیں چیتا خاندان میں اضافہ ہو رہا ہے تو وہ مدھیہ پردیش میں ہو رہا ہے، جو پورے ایشیا کے لیے فخر کی بات ہے۔ سیاحت کو فروغ دینے کے مقصد سے ریاست میں ہیلی کاپٹر سروس شروع کی گئی ہے، جس میں 45 منٹ کے سفر کا کرایہ صرف 3500 روپے رکھا گیا ہے، جو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ اس سے ریاست میں سیاحت کو نئی رفتار ملے گی۔









