لکھنو ۔ 8 فروری (پریس ریلیز)تعلیم کو سماجی انقلاب کا وسیلہ بنانے والے عظیم ماہر تعلیم اور بانئی ارم ایجو کیشنل سوسائٹی ڈا کٹر خواجہ محمد یونس کی یاد میں گزشتہ روز 4 فروری 2026 کو ارم ایجو کیشنل سوسائٹی ، اندر انگر واقع ارم گرلز ڈگری کالج میں فاؤنڈرڈے کی مناسبت سے منعقدہ تقریب، ایک شام ڈاکٹر خواجہ محمد یونس کے نام شاندار تاریخی اور یادگار ثابت ہوئی۔ اس موقع پر علم ، ادب ، تہذیب اور ثقافت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملا۔ تقریب کے مہمان خصوصی اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی بر جیش پاٹھک جبکہ وزیر اقلیتی بہبود دانش آزاد انصاری مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ کالج کیمپس کو دیدہ زیب روشنیوں ، خوبصورت اسٹیج اور دلکش سجاوٹ سے آراستہ کیا گیا تھا۔ بڑی تعداد میں اساتذ، دانشوران ، ادبا، افسران، صحافی ،سماجی شخصیات اور طالبات نے شرکت کی ۔ تقریب میں شرکت کرتے ہوئے نائب وزیر اعلی بر جیش پاٹھک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر خواجہ محمد یونس نے تعلیم کو محض روز گار کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کی تعمیر کا مشن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ارم گرلس کالج آج اعلی تعلیم کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انھوں نے مزید تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی ڈاکٹر خواجہ محمد یونس کا نام ذہن میں آتا ہے، 1970 میں قائم ہونے والے اس ادارے کے بارے میں خیال آجاتا ہے، جہاں طلباء کو نہ صرف روایتی تعلیم بلکہ جدید تعلیم سے بھی متعارف کرایا جاتا ہے، ڈاکٹر خواجہ یونس نے اپنی پوری زندگی غریبوں کی تعلیم کے لئے وقف کر دی تھی ، ان کا مقصد دولت کمانا نہیں تھا۔ بلکہ سماج کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ارم ایجو کیشنل سوسائٹی ملک میں اعلی تعلیم کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ نائب وزیر اعلی بر جیش پاٹھک نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ڈاکٹر خواجہ محمد یونس ، نے تعلیم کو نہ صرف روزگار کا ایک ذریعہ بنایا بلکہ معاشرے کی ترقی کے لئے ایک ذریعہ بھی۔ انھوں نے کہا کہ “ڈاکٹر خواجہ یونس نے ایک ایسے وقت میں تعلیم کی بنیاد رکھی جب اعلی تعلیم غریبوں اور محروم طبقوں سے دور دور تک محروم تھی ان کے لئے یہ ایک خواب تھا ۔ آج ،ارم ایجوکیشنل سوسائٹی بھی اسی سوچ کو آگے بڑھارہی ہے اور بیٹیوں کو تعلیم سے آراستہ کرارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کو بیٹیوں کی تعلیم سے تقویت ملی ہے”۔
اس موقع پر دانش آزاد انصاری وزیر برائے اقلیتی بہبود نے کہا کہ ارم ایجو کیشنل سوسائٹی ریاست کے منتخب کردہ اداروں میں سے ایک ہے، جس نے اقلیتی برادری کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے لئے بھی تعلیم کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ “ارم گرلز ڈگری کالج بیٹیوں کی تعلیم کے لئے ایک مضبوط قلعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر یونس کا خواب آج ایک حقیقت بن گیا ہے اور یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کی تشکیل کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر یونس نے اس دور میں تعلیم کی شمع روشن کی جب غریب اور پسماندہ طبقات کے لیے اعلیٰ تعلیم ایک خواب تھی۔ آج ارم ایجو کیشنل سوسائٹی اسی خواب کو حقیقت میں بدل رہی ہے، خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے میدان میں یہ ادارہ مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ارم ایجو کیشنل سوسائٹی صوبے کی ان چند تعلیمی تنظیموں میں شامل ہے جنہوں نے اقلیتی سماج کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو تعلیمی ترقی کی نئی راہیں دکھائی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر خواجہ یونس کا خواب آج زندہ حقیقت بن چکا ہے اور یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن کر رہا ہے۔” فاؤنڈرس ڈے تقریب کا آغاز طالبات کی پر اثر سرسوتی وندنا سے ہوا۔ اس کے بعد لوک رقص، قومی نغنے، صوفیانہ کلام اور گروپ ڈانس نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ طالبات کے اعتماد اور فن نے یہ ثابت کردیا کہ تعلیم کے ساتھ تہذیبی تربیت بھی ارم کا خاص امتیاز ہے۔
طلبا کی تقریب کے بعد شام ڈھلتے ہی تقریب نے ادبی رنگ اختیار کر لیا۔ ملک کے نامور شعرا کی موجودگی میں منعقدہ عظیم الشان محفل مشاعرہ کا آغازہوا۔ مشاعرے کی صدارت مشہور شاعر و سابق چیئر مین نواز دیوبندی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عباس رضا نیر نے انجام دئیے۔ جن شعراء نے اپنے اپنے کلام سے نوازا ان میں ڈاکٹر منتظر بھوپالی ، ڈاکٹر مہتاب عالم ، ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی ، پون کمار (IAS)، ہری اوم (IAS) ، ابرار کاشف، عباس رضا نیر، منیش شکلا ،ڈاکٹر طارق قمر ، شالنی سنگھ ، شکھا اودھیش ، انجوسنگھ سمیت متعد د معزز افسران، سماجی کارکنان اور تعلیم سے وابستہ شخصیات موجود رہیں۔









