بھوپال:11؍مارچ:(پریس ریلیز) اعتکاف اسلام کی ایک عظیم عبادت ہے جو خاص طور پر ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں کی جاتی ہے۔ اس عبادت کا مقصد دنیاوی مصروفیات سے الگ ہو کر مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور یاد میں مشغول ہونا ہے۔ اعتکاف انسان کو روحانی سکون عطا کرتا ہے اور اسے اپنے رب کے قریب ہونے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔اعتکاف کی سنت ہمیںحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوئی ہے۔ آپ ﷺ ہر سال رمضان المبارک کے آخری دس دن مسجد میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ اس سنت پر عمل کرتے ہوئے مسلمان بھی رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ عبادت، دعا اور تلاوتِ قرآن کر سکیں۔
اعتکاف کا ایک بڑا مقصد شبِ قدر کی تلاش بھی ہے۔ شبِ قدر وہ مبارک رات ہے جسے قرآن مجید میں ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص زیادہ تر وقت نماز، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دعا میں گزارتا ہے، جس سے اس کی روحانی تربیت ہوتی ہے اور ایمان مضبوط ہوتا ہے۔
اس عبادت کے ذریعے انسان اپنے گناہوں پر غور کرتا ہے، توبہ کرتا ہے اور آئندہ بہتر اسلامی زندگی گزارنے کا عزم کرتا ہے۔ اعتکاف انسان کو صبر، تقویٰ اور خود احتسابی کی تعلیم دیتا ہے۔ اس طرح یہ عبادت نہ صرف فرد کی اصلاح کرتی ہے بلکہ معاشرے میں نیکی اور پرہیزگاری کو بھی فروغ دیتی ہے۔