زیورخ/واشنگٹن،2 مارچ(یواین آئی)فٹ بال کی عالمی تنظیم ‘فیفا نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے بعد ورلڈ کپ 2026 کے محفوظ انعقاد کے لیے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ہفتے کی صبح ایران پر ہونے والے میزائل حملوں اور جوابی کارروائیوں نے رواں موسمِ گرما میں ہونے والے میگا ایونٹ پر سیکیورٹی کے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فیفا کے جنرل سیکریٹری میتھیاس گرافسٹروم نے واضح کیا ہے کہ تمام شریک ٹیموں کی سلامتی تنظیم کی اولین ترجیح ہے اور ایک محفوظ ٹورنامنٹ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عالمی کپ کے گروپ ‘جی میں شامل ایران کے میچز امریکی شہروں لاس اینجلس اور سیئٹل میں شیڈول ہیں۔ ایرانی ٹیم نے اپنا تربیتی کیمپ بھی امریکی ریاست ایریزونا (ٹوسان) میں لگانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی شہریوں پر عائد سفری پابندیوں کے باوجود، ورلڈ کپ کے کھلاڑیوں، کوچز اور ان کے اہل خانہ کو خصوصی استثنا حاصل ہے، تاہم حالیہ حملوں نے اس عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
جنرل سیکریٹری فیفا میتھیاس گرافسٹروم کا کہنا ہے کہ ابھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے، لیکن فیفا بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ فٹ بال کے عالمی میلے کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یہ صورتحال اس لحاظ سے بھی دلچسپ ہے کہ دسمبر میں ہونے والی ورلڈ کپ ڈرا سے قبل فیفا صدر جیانی انفیٹینو نے صدر ٹرمپ کو ‘امن انعام سے نوازا تھا۔ اب ماہرین کا کہنا ہے کہ میکسیکو کی خانہ جنگی اور امریکہ-ایران کشیدگی کے سائے میں ورلڈ کپ 2026 کا کامیاب انعقاد فیفا کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔









