نئی دہلی 3مئی: گزشتہ روز معروف کسان لیڈر راکیش ٹکیت پر ہوئے حملہ کے خلاف آج مظفر نگر واقع سسولی کے جی آئی سی میدان میں ’کسان-مزدور سمّان بچاؤ‘ مہاپنچایت بلائی گئی تھی، جس میں لوگوں کی زبردست بھیڑ شریک ہوئی۔ اس مہاپنچایت میں رکن پارلیمنٹ اقرا حسن بھی موجود تھیں اور اپنے خطاب کے دوران انھوں نے راکیش ٹکیت پر حملہ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا۔ سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے راکیش ٹکیت اور دیگر کسان لیڈران کی موجودگی مہاپنچایت سے خطاب کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ ’’بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت پر حملہ کرنے والے بھی دہشت گرد سے کم نہیں ہیں۔ کل کا واقعہ بے حد قابل مذمت ہے۔‘‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’اس ملک میں ہر شخص دہشت گردی کے خلاف ہے۔ پہلگام میں جو ہوا، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں، اور دہشت گردوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ لیکن ’آکروش ریلی‘ میں کوئی جاتا ہے تو حمایت کرنے جاتا ہے۔ راکیش ٹکیت نے اپنے لیے کام نہیں کیا، بلکہ دوسروں کے حق کی لڑائی لڑی۔ وہ ہر جگہ سب سے پہلے پہنچتے ہیں، ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘ اس مہاپنچایت میں جھبریڑا سے کانگریس رکن اسمبلی ویریندر کمار اور بڈھانہ سے آر ایل ڈی رکن اسمبلی راجپال بالیان نے بھی شرکت کی۔ راجپال بالیان نے بھی اپنے خطاب میں راکیش ٹکیت پر ہوئے حملہ کی سخت تنقید کی اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’دہشت گردوں کا علاج ہونا چاہیے۔ حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘ اس موقع پر سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی اتل پردھان نے کہا کہ ’’جو پگڑی کل اچھالی گئی، وہ راکیش ٹکیت کی نہیں، کسانوں کی ہے۔ بھائی چارے کی پگڑی ہے۔ ہم ٹکیت کی ڈھال بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کی بے عزتی کرنے والے لکیر کھینچ لیں، مقابلے کے لیے تیار رہیں۔‘‘