نئی دہلی 26ستمبر:ایس آئی آر معاملہ پر تنازعات کا سامنا کر رہے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے آج دونوں چیف الیکشن کمشنرز ڈاکٹر وویک جوشی اور ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں واضح کیا گیا کہ فارم 6 معاملہ پر جو تنازعہ ہے، وہ بے معنی ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے بھی فارم 6 کے ڈکلیریشن کو درست مانا ہے۔ اس میٹنگ کے بعد جاری بیان میں یہ بھی ظاہر کیا گیا کہ کابینہ سکریٹری کو جو خط لکھا گیا تھا، اس کا الیکشن کمیشن کے پالیسی پر مبنی فیصلوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ 26 ستمبر کو ہوئی الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں کچھ اہم فیصلے لیے گئے، جنھیں 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ میں دہلی اور مہاراشٹر میں جاری ایس آئی آر کے عمل کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پہلے حصہ کی اہم باتیں اس طرح ہیں:
ایس آئی آر میں نوٹس حاصل کرنے والے لوگوں کے گھر بی ایل او دستاویزات لینے جائیں گے، سماعت عام طور پر ضروری نہیں ہوگی۔ثڈی ای او ضرورت کے مطابق رین بسیروں، مزدوروں، غریبوں اور بے گھروں کے لیے ہیلپ ڈیسک لگائیں گے۔ثایس آئی آر میں فارم-6 کے ساتھ حلف نامہ کا انتظام سپریم کورٹ سے برقرار رہا۔ثای سی آئی نیٹ کا تجزیہ سینئر ڈی ای سی اور خود مختار آئی آئی ٹی/آئی آئی ایم ماہرین کی کمیٹی کرے گی۔ثدہلی میں دعوے و اعتراضات کی آخری تاریخ 30 اکتوبر اور مہاراشٹر میں 12 اکتوبر ہوئی۔ثالیکشن کمیشن کی سبھی میٹنگوں میں ایجنڈا پہلے بھیجا جائے گا اور میٹنگ کی کارروائی جاری ہوگی۔ثسبھی افسران کی اے پی اے آر رپورٹ ہر سال مقررہ وقت 31 دسمبر تک پوری ہوگی۔ثافسران کے بیرون ممالک سفر کے لیے اب الیکشن کمیشن کی منظوری ضروری ہوگی۔ثکمشنرز کی طرف سے افسران کو جاری سبھی ہدایات پر سختی سے عمل یقینی بنایا جائے گا۔









