بھوپال، 7 مارچ:مرکزی حکومت کی جانب سے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 60 روپے اور 19 کلو والے کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 115 روپے کا بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کا اطلاق آج 7 مارچ سے ہی ہو گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد مدھیہ پردیش کے بڑے شہروں میں گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں، اب بھوپال میں سلنڈر 918 روپے، اندور میں 941 روپے، گوالیار میں 996 روپے، جبل پور میں 919 روپے اور اجین میں 972 روپے میں ملے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل یکم مارچ کو بھی کمرشل گیس کی قیمتوں میں 31 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، اور اب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ملک میں گیس کی قلت کے خدشے کے پیشِ نظر یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
گیس کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کے خلاف کانگریس نے بھوپال کے روشن پورہ چوراہے پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، جہاں خواتین کارکنوں نے ’مہنگائی کا انجکشن‘ لکھے ہوئے پوسٹرز اور گیس سلنڈر کے کٹ آؤٹس کے ساتھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کچن کے بجٹ میں مسلسل بگاڑ پیدا ہو رہا ہے اور اگر قیمتیں فوراً واپس نہ لی گئیں تو بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ دریں اثنا، ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف وزیر پیٹرولیم ہردیپ پوری سستا ایندھن فراہم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں اور دوسری طرف عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس کی قیمت پورا ملک چکا رہا ہے۔









