بھوپال9جون: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں عیدالاضحی پورے خشوع و خضوع کے ساتھ منائی گئی۔ شہر میںتیسرے روز بھی عید الاضحی کی گہما گہمی رہی اور آج بھی بڑے پیمانے پر سنت ابراہیمی کی یاد میں حلال جانوروں کی قربانی دی گئی اور دعوتوں کے دور چلتے رہے۔ قبل ازیں بروزسنیچر 7جون کو شہر کی عیدگاہ ،جامع مسجد، تاج المساجد اور موتی مسجد سمیت متعدد مساجد میں نماز عید الاضحی ادا کی گئی اور سنت ابراہیمی کے تحت حلال جانوروں خاص طور پر بکروں اور بودے کی قربانی کا سلسلہ شروع ہوا۔جو آج تیسرے روز غروب آفتاب سے قبل ختم ہوا۔ عیدالاضحی پر سنیچر کو سب سے پہلے عیدگاہ میں شہر قاضی مولانا سید مشتاق علی ندوی کی اقتدا میں ہزاروں اہل ایمان نے نماز عیدالاضحی ادا کی۔ بعدہٗ قاضی شہر جناب مشتاق علی ندوی نے خطبہ پڑھا۔ نماز سے قبل شہر قاضی مولانا ندوی نے عید الاضحی اور قربانی کے تعلق سے بیان فرمایا اور حالات حاضرہ پر بھی ملت کو بصیرت افروز نصیحتیں فرمائیں۔ قاضی صاحب نے اپنے ناصحانہ خطبے میں کہا کہ قربانی اللہ کو راضی کرنے کا ایک واجب عمل ہے۔ ہر صاحب حیثیت عورت اور مرد کو اللہ کی رضا کے لئے قربانی کرنا چاہئے۔ قاضی صاحب نے قربانی میں دکھاوے سے اجتناب برتنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ دکھاوا کہیں اللہ کی ناراضگی کا سبب بن جائے۔قاضی صاحب نے فرمایا کہ عیدالاضحی پر ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے کہ لوگوں کو تکلیف ہو اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ عیدگاہ میں نماز دوگانہ کی ادائیگی کے بعد سبھی نے ایک دوسرے کو گلے مل کر عید کی مبارکباد دی۔ عیدالاضحی کے موقع پرسنیچر کو صبح سے ہی مسلمان جوق در جوق عیدگاہ، تاج المساجد، موتی مسجد اور جامع مسجد کے علاوہ دیگر مساجد کی طرف رواں نظر آئے۔ اس دوران سلامتی کے معاملے میں بھی پولس خاصی الرٹ نظر آئی۔









