لکھنو11اگست: اترپردیش اسمبلی میں اراکین اسمبلی کو تکنیکی طور پر مضبوط بنانے کے مقصد سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو لے کر ایک اسپیشل سیشن منعقد کیا گیا۔ اس دوران عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانے اور اے آئی کے ذریعہ کمیونیکیشن کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اسمبلی میں منعقد اس پروگرام کو آئی ٹی ایکسپرٹ ہرشت اور آشوتوش تیواری نے آپریٹ کیا۔ اسپیکر ستیش مہانا، اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے، پارلیمانی امور کے وزیر سریش کمار کھنہ اور مختلف سیاسی پارٹیوں کے اراکین نے اس میں حصہ لیا۔ اس موقع پر ستیش مہانا نے کہا کہ ’’وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی بدلتی رہتی ہے، لیکن بزرگوں کے نظریات اور رہنمائی ہمیشہ صحیح سمت دیتی ہے۔‘‘ اسمبلی اسپیکر نے موبائل فون کے ابتدائی ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب یہ روزمرہ کے معمول کا ناگزیر حصہ بن گیا ہے اور بدلتے وقت میں اراکین اسمبلی کے لیے نئی تکنیکوں کو اپنانا ضروری ہے۔‘‘ اپوزیشن رہنما ماتا پرساد پانڈے نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اسمبلی میں نئی تکنیک کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب موبائل فون بھی نایاب تھے۔ اس دوران ایوان میں سماجوادی پارٹی سے معطل رکن اسمبلی ابھے سنگھ نے اے آئی کے حوالے سے جو باتیں کہیں وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کافی وائرل ہو گئی ہیں۔ ابھے سنگھ نے چَیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی کو ٹھگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس کے پاس اپنی کوئی جانکاری نہیں ہے، یہ ہم سے لے کر ان کو دیتا ہے اور ان سے لے کر ہم کو دیتا ہے۔ اس کا ڈیٹا ناقابل اعتبار ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر ہم اصل میں جاننا چاہیں کہ حلقۂ اسمبلی میں کس پارٹی کی لہر چل رہی ہے، اس کا موڈ کیا ہے، تو یہ نہیں بتا پائے گا۔ اس بیان کے بعد ایوان میں موجود تمام اراکین زور زور سے ہنسنے لگے۔