نئی دہلی 10دسمبر: گزشتہ 8 دنوں سے انڈیگو بحران جاری ہے، جس کے سبب ملک کے تمام ایئرپورٹ پر مسافر پریشان نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کی سختی اور تمام تر کوششوں کے بعد بھی اب تک انڈیگو ایئرلائنز کا آپریشن مکمل طور پر ٹریک پر نہیں آ سکا ہے۔ روزانہ سیکڑوں پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں۔ اس کے سبب ایک طرف جہاں انڈیگو اور اس کے شیئروں میں پیسے لگانے والوں کو بھاری نقصان ہو رہا ہے، تو دوسری جانب دہلی کا بھی دیوالیہ نکل گیا ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے انڈیگو بحران سے صرف دہلی کے کاروباریوں اور ٹورزم سیکٹر کو ہوئے نقصان کا اعداد و شمار پیش کیا ہے۔ سی ٹی آئی کے چیئرمین بجیش گوئل کے مطابق انڈیگو ایئرلائن کے واقعہ سے دہلی کی تجارت، سیاحت اور دیگر تمام سیکٹرز کو 1000 کروڑ روپے کے کاروبار کا نقصان ہوا ہے۔ علاوہ ازیں انڈیگو بحران کی وجہ سے دہلی میں گزشتہ 10 دنوں کا ’فٹ فال‘ 25 فیصد تک گر گیا ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں موجود ہوٹل، ریسٹورنٹ، بینکوئٹ اور ریزورٹ کی ہزاروں بکنگ بھی منسوخ ہو چکی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر انڈیگو پرواز منسوخی کے اس مسئلہ سے دہلی کے کئی صنعتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ انڈیگو بحران کی شروعات سے اب تک تقریباً 4500 سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور منسوخی کا اعداد و شمار مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ سی ٹی آئی چیئرمین برجیش گوئل کے مطابق روزانہ دہلی ایئرپورٹ سے زیادہ لوگ سفر کرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 50 ہزار کاروباری ہوتے ہیں۔ لیکن گزشتہ کچھ دنوں نے سفر کرنے والے کاروباریوں میں کافی کمی آئی ہے۔ دہلی کے بازاروں میں بھی باہر سے بہت کم لوگ آ پا رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر یہاں موجود تجارت پر پڑ رہا ہے۔