بھوپال:02؍مئی:شری کاشی وشوناتھ دھام وارانسی کے مقدس احاطے میں نصب ‘‘وکرمادتیہ ویدک گھڑی’’ نے اپنی ثقافتی اور سائنسی اہمیت کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں ایک نیا سنگِ میل قائم کیا ہے۔ اس منفرد اقدام نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع پر اٹھہتر لاکھ بیالیس ہزار ایک سو سڑسٹھ سے زیادہ افراد تک اپنی رسائی درج کرائی ہے۔
وزیراعظم کے مشاہدے سے عالمی وسعت حاصل ہوئی
وزیراعظم مسٹرنریندرمودی نے انتیس اپریل دو ہزار چھبیس کو بھارتی ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کے اس امتزاج کا مشاہدہ بابا وشوناتھ کے درشن و پوجا کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے اس ویدک گھڑی کو قدیم علم اور جدید سائنسی نقط نظر کا شاندار امتزاج قرار دیا۔ ان کے مشاہدے کے بعد سوشل میڈیا پر اس گھڑی کے حوالے سے نیا جوش دیکھا گیا، جس سے یہ ملک و بیرونِ ملک بحث کا مرکز بن گئی۔وزیراعظم کے مشاہدے کے بعد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایسا ماحول بنا کہ صرف سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع سے ہی لاکھوں صارفین تک اس کی گونج پہنچی۔ وزیراعظم اور دیگر سرکاری یوٹیوب چینلز پر نشر ہونے والی براہِ راست نشریات کو پانچ ہزار نو سو تینتیس افراد نے دیکھا۔ اس کے ساتھ قومی نیوز چینلز پر براہِ راست نشریات نے کروڑوں ناظرین تک اس کی معلومات پہنچائیں۔سوشل میڈیا کے مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم X (ٹوئٹر) پر ہیش ٹیگ وکرم اْتسو وارانسی بھارت کے ٹرینڈنگ سیکشن میں نمبر ایک پر رہا، جو سناتن ثقافت اور بھارتی وقت شماری سے متعلق سرگرمیوں کے لیے ایک ڈیجیٹل سنگِ میل ہے۔ سولہ سے زیادہ اہم ہیش ٹیگز کو ٹریک کیا گیا، جن میں وارانسی، وکرمادتیہ ویدک گھڑی اور ویدک گھڑی جیسے ہیش ٹیگز نے لاکھوں افراد کو متوجہ کیا۔ اس وسیع کوریج نے اس عظیم سائنسی ورثے کو عالمی سطح پر دوبارہ نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ثقافتی بیداری کا نیا ذریعہ:مدھیہ پردیش حکومت کے محکمہ ثقافت کے تحت مہاراجہ وکرمادتیہ ریسرچ پیٹھ کی جانب سے تیار کردہ اس گھڑی کو وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادونے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ مسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو پیش کیا تھا۔ چار اپریل دو ہزار چھبیس کو نصب کی گئی یہ گھڑی بھارتی وقت شماری، پنچانگ اور سیاروں کی پوزیشن جیسی پیچیدہ معلومات کو آسان انداز میں پیش کرتی ہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی:اس کامیاب ڈیجیٹل رسائی نے ثابت کر دیا ہے کہ نئی نسل اپنی جڑوں اور سناتن ثقافت کے سائنسی پہلوؤں کو جاننے کے لیے بے حد متجسس ہے۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے مطابق وارانسی کی کامیابی کے بعد اب ایودھیا رام مندر سمیت ملک کے تمام اہم جیوتیرلنگ مقامات پر ایسی ویدک گھڑیاں نصب کرنے کی منصوبہ بندی ہے، تاکہ بھارتی علمی روایت کی روشنی ہر شخص تک پہنچ سکے۔