بھوپال:12؍اکتوبر:مدھیہ پردیش میں سائبر جرائم کے خلاف پولیس کی جانب سے مسلسل مؤثر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں رتلام پولیس نے ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر 55 لاکھ روپے کی سائبر دھوکہ دہی کے معاملے کا انکشاف کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کی فوری کارروائی کے نتیجے میں دھوکہ دہی کی رقم میں سے تقریباً 20 لاکھ روپے ہولڈ کرانے میں کامیابی ملی ہے۔ گرفتار ملزمان میں سے دو کو حیدرآباد اور ایک کو دھارواڑ، کرناٹک سے گرفتار کیا گیا ہے۔اس معاملے میں شکایت کنندہ، جو کویت میں موٹر پارٹس کا کاروبار کرتے ہیں اور فی الحال رتلام میں رہ رہے تھے، کو 15 ستمبر کو ایک نامعلوم شخص نے فون کرکے خود کو ممبئی پولیس کا افسر بتایا۔ فون کرنے والے نے موبائل نمبر کے مبینہ مجرمانہ استعمال اور پاکستان کی آئی ایس آئی سے وابستہ شخص سے بات چیت جیسے سنگین الزامات لگا کر شکایت کنندہ کو خوف زدہ کیا۔اس کے بعد مختلف موبائل نمبروں سے خود کو پولیس افسر بتانے والے افراد نے شکایت کنندہ کو بتایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ملزمان نے آدھار کارڈ اور پین کارڈ سے متعلق معلومات بھی حاصل کیں۔ اگلے دن ملزمان نے فون کال کو مبینہ طور پر اے ٹی ایس کے محکمے میں منتقل کرنے کا ڈرامہ کیا۔ واٹس ایپ ویڈیو کال کے ذریعے پولیس کی وردی پہنے افراد سے بات کرائی گئی اور ہتھیاروں سے متعلق تصاویر بھیج کر پوچھ گچھ کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ آف انڈیا کے لیٹر ہیڈ پر تیار کردہ جعلی دستاویزات بھیج کر شکایت کنندہ کو یقین دلایا گیا کہ ان کے خلاف سنگین قانونی کارروائی جاری ہے۔
ملزمان نے شکایت کنندہ کو بتایا کہ تفتیش اور تصدیق کے لیے مقررہ بینک کھاتوں میں رقم جمع کرانی ہوگی اور تصدیق کے بعد پوری رقم واپس کر دی جائے گی۔ قانونی کارروائی کا خوف دکھا کر شکایت کنندہ سے مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے مختلف بینک کھاتوں میں آر ٹی جی ایس کے ذریعے جمع کرا لیے گئے۔ شکایت موصول ہونے پر تھانہ مانک چوک میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی گئی۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تھانہ مانک چوک اور سائبر سیل کی مشترکہ ٹیم تشکیل دے کر بینک کھاتوں، لین دین اور تکنیکی شواہد کا تجزیہ کیا گیا۔ پولیس نے دھوکہ دہی کی رقم کا مسلسل سراغ لگایا اور مختلف مراحل میں استعمال کیے گئے بینک کھاتوں کی معلومات جمع کیں۔
تفتیش کے دوران یہ معلومات سامنے آئیں کہ شکایت کنندہ سے جمع کرائی گئی 35 لاکھ روپے کی رقم ایک بینک کھاتے میں پہنچی تھی۔ اس کھاتے سے متعلق کمپنی اور دیگر بینکنگ تفصیلات کی بنیاد پر پولیس ٹیم حیدرآباد پہنچی، جہاں سے ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ مزید تفتیش کے دوران حاصل ہونے والے بینکنگ اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر پولیس ٹیم نے دھارواڑ، کرناٹک سے ایک اور ملزم کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ دوسرے مرحلے کے بینک کھاتے میں 5 لاکھ روپے منتقل ہونے کی معلومات سامنے آنے پر ایک اور ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا۔پولیس کے سائبر سیل اور تھانہ مانک چوک کی مشترکہ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دھوکہ دہی کی رقم میں سے تقریباً 20 لاکھ روپے متعلقہ بینک کھاتوں میں ہولڈ کرائے ہیں۔ پولیس کی جانب سے رقم موصول ہونے، نکالے جانے اور آگے دوسرے کھاتوں میں منتقل کیے جانے کے سلسلے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس معاملے میں گرفتار ملزمان سے پوچھ گچھ اور بینک کھاتوں و تکنیکی شواہد کے تجزیے کے ذریعے دیگر ممکنہ ملوث افراد اور دھوکہ دہی کی رقم کے بارے میں معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔مدھیہ پردیش پولیس شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ اگر پولیس، سی بی آئی، ای ڈی، عدالت یا کسی دوسری سرکاری ایجنسی کے نام پر ویڈیو کال کے ذریعے ڈیجیٹل گرفتاری کی بات کہی جائے تو اس پر یقین نہ کریں۔ کوئی بھی قانونی سرکاری تفتیشی ایجنسی ویڈیو کال پر ڈیجیٹل گرفتاری نہیں کرتی اور نہ ہی تفتیش یا تصدیق کے نام پر کسی بینک کھاتے میں رقم جمع کرانے کے لیے کہتی ہے۔ایسی کسی بھی کال، پیغام یا ویڈیو کال کی صورت میں فوراً کال منقطع کر دیں، کسی بھی شخص کے ساتھ بینکنگ یا ذاتی معلومات شیئر نہ کریں اور سائبر جرم کی اطلاع 1930 ہیلپ لائن یا cybercrime.gov.in پر دیں۔ فوری اطلاع دینے سے پولیس کو دھوکہ دہی کی رقم بروقت ہولڈ کرانے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔









