چنئی، 4 اپریل (یو این آئی) ممبئی انڈینس کے خلاف مشکل مقابلے میں جیت کے ساتھ شروعات کرنے کے بعد گھریلو میدان پر چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) ہفتہ کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے مقابلے میں پراعتماد دہلی کیپٹلس کا سامنا کرے گی۔سی ایس کے کو لگاتار دو شکستوں کے بعد پریشانی کا سامنا ہے، وہیں دہلی نے اپنے آخری دو میچ جیت کر اپنی فارم دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ پانچ بار کی چیمپئن سی ایس کے کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ٹیم کمبی نیشن اور توازن درست کرنا ہے۔ ٹاپ آرڈر پاور پلے میں وکٹیں بچانے اور دوسری ٹیموں کی طرح تیزی سے رنز بنانے میں ناکام رہا ہے۔ یہ بھی تشویش کی بات ہے کہ درمیانی اوورز میں وقفے وقفے سے وکٹیں کھونے سے سی ایس کے کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ٹاپ آرڈر نے ابھی تک اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ٹیم انتظامیہ نے دیپک ہڈا کی جگہ راہل ترپاٹھی کو جگہ دی جو پہلے دو میچوں میں ناکام رہے لیکن وہ بھی موقع کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ کپتان روتوراج گائیکواڈ اور رچن رویندرا کے علاوہ، ٹاپ آرڈر سی ایس کے کو پریشان کر رہا ہے۔ پچھلے تین میچوں میں، رتوراج نے لگاتار تین ٹاس جیتے تھے اور پہلے گیند بازی کا انتخاب کیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے پہلے میچ میں باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ ایک نیا ایڈیشن تھا، نئی لائن اپ، نئی وکٹ تھی اوروہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ یہ کیسا برتاؤ کرے گا۔ درمیانی اوورز میں وکٹوں کا گرنا باعث تشویش رہا۔ اگر ممبئی انڈینز نے 15 سے 20 اضافی رنز بنا لیتے تو ہوم گراؤنڈ پر جیت کا تعاقب اور بھی مشکل ہوتا۔ تاہم فاتحانہ آغاز کے بعد لگاتار دو شکستوں نے ٹیم کی رفتار کو روک دیا ہے۔ ٹیم گھر پر آرسی بی سے بڑے مارجن سے ہار گئی تھی، جس سے آرسی بی نے چنئی میں پہلی جیت درج کرنے کا 17 سال پرانا متھک توڑ دیا۔ اس کے بعد، راجستھان رائلز سے قریبی فرق سے شکست نے ٹیم مینجمنٹ کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لئے متاثر کیا۔چنئی کے لیے یہ اہم ہے کہ ٹاپ آرڈر فارم میں واپس آئے۔ اس کے علاوہ ڈیون کونوے کو ان فارم راچن رویندر کے ساتھ شامل کرنا زیادہ سمجھداری کی بات ہوگی۔ ٹیم انتظامیہ کو زیادہ متوازن مڈل آرڈر کے مسئلے پر بھی توجہ دینی چاہیے، جوخراب شاٹ سلیکشن کی وجہ سے وکٹیں گنوانے کے بجائے درمیانی اوورز میں اسٹرائیک روٹیٹ کرے گا، جس کی وجہ سے ٹیم کو گزشتہ دو میچوں میں بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔پیسر خلیل احمد پاور پلے میں کامیابی دلانے میں ماہر ہیں، انہوں نے آئی پی ایل میں اب تک 25 سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں، جب کہ جیمی اوورٹن کی اپنی جگہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اسپن ڈپارٹمنٹ میں تجربہ کار آف اسپنر آر اشون اور رویندرا جڈیجہ کے ہاتھوں میں ہے، جب کہ بائیں ہاتھ کے اسپنر نور محمد اپنے شاندارویرییشن کے ساتھ پرپل کیپ ٹیبل میں سرفہرست ہیں۔دہلی کیپٹلس نے دو میچوں میں دو جیت درج کی ہے، جس میں آخری میچ میں ایل ایس جی کے خلاف ایک وکٹ کی معمولی جیت اور ابتدائی مقابلے میں ایس آرایچ پر جیت شامل ہے۔ دہلی کیپٹلس کے پاس کے ایل راہل اور تجربہ کار فاف ڈو پلیسس کے ساتھ زیادہ متوازن کمبی نیشن ہے، اس کے علاوہ کرون نائر اور جیک فریزر- میک گرک کے ساتھ ابھیشیک پوریل اور ٹرسٹن اسٹبس مڈل آرڈر میں مضبوطی فراہم کررہے ہیں ۔کپتان اور اسپنر اکشر پٹیل کی قیادت میں باؤلرز نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
وکٹ سے روایتی طور پر اسپنرز کی مدد کی توقع کی جاتی ہے، اس لیے آخر میں سست گیند باز فیصلہ کن عنصر ثابت ہو سکتے ہیں، جس میں سی ایس کےاپنی جیت کی لے واپس پانا چاہے گی اورڈی سی اپنی جیت کی لے کو جاری رکھنا چاہے گی۔