بھوپال، 29 ستمبر:(پریس ریلیز) جمعیت علماء مدھیہ پردیش کے زیرِ اہتمام مسجد انوار الحق، موتی نگر، اولڈ سبھاش نگر، بھوپال میں یونیفارم سول کوڈ (UCC) اور مسلم پرسنل لا سے متعلق پیدا ہونے والے اہم مسائل پر ایک اہم مشاورتی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت جمعیت علماء یونٹ بی ایچ ای ایل، بھوپال کے صدر ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی۔ نشست کا مقصد موجودہ حالات کے تناظر میں شریعتِ مطہرہ، مسلم پرسنل لا اور آئینی حقوق سے متعلق امور کا سنجیدہ جائزہ، علماء و ائمہ کے درمیان باہمی مشاورت اور آئندہ کے لائحۂ عمل کے سلسلے میں فکری ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔نشست میں علماء، ائمہ، اہلِ دانش اور ذمہ دارانِ ملت نے شرکت کی۔ مولانا محمد انور ندوی، سکریٹری جمعیت علماء حلقہ بی ایچ ای ایل، بھوپال و نائب مہتمم معہد الدراسات الاسلامیہ، بھوپال، اور مولانا محمد ابصار فلاحی صاحب نے اپنے خطاب میں موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور ملت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے بیداری، باہمی مشاورت، حکمت و بصیرت اور منظم جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی دامت برکاتہم العالیہ نے کہا کہ موجودہ حالات اہلِ علم و دانش سے محض تشویش کے اظہار کا نہیں بلکہ سنجیدہ غوروفکر، باہمی مشاورت اور ذمہ دارانہ عملی کردار کا تقاضا کرتے ہیں۔
شریعتِ مطہرہ اور مسلم پرسنل لا سے متعلق مسائل ملت کی دینی، خاندانی اور معاشرتی زندگی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں؛ اس لیے ان امور پر عوام میں صحیح دینی و آئینی شعور پیدا کرنا اور انہیں قانونی و سماجی پہلوؤں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود باہمی احترام، آئینی دائرۂ کار، قانونی ذرائع اور پُرامن اجتماعی جدوجہد کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسائل کا سامنا کیا جانا چاہیے۔ علماء، ائمہ اور اہلِ دانش اگر اپنے اپنے حلقۂ اثر میں ذمہ دارانہ انداز میں بیداری پیدا کریں اور ملت کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھتے ہوئے منظم رہنمائی فراہم کریں تو اجتماعی سطح پر مثبت اور مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
نشست میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ حساس حالات میں مساجد، مدارس، تعلیمی و سماجی اداروں اور عوامی حلقوں کے درمیان رابطہ مضبوط کیا جائے، دینی و آئینی معلومات کو عام کیا جائے اور کسی بھی اہم معاملے میں مستند معلومات اور ذمہ دارانہ رہنمائی کو بنیاد بنایا جائے۔
شرکائے نشست نے جمعیت علماء مدھیہ پردیش کی جانب سے منعقد کی جانے والی اس مشاورتی کاوش کو مفید قرار دیتے ہوئے اس نوعیت کی نشستوں کے تسلسل، باہمی رابطے اور اجتماعی مشاورت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔آخر میں ملک و ملت کے لیے خیر، امن، استحکام اور شریعت و آئینی حقوق کے تحفظ کی دعا کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔ شرکائے مجلس کے لیے ضیافتِ طعام کا بھی اہتمام کیا گیا۔