بھوپال، 20 جولائی: مدھیہ پردیش اسمبلی کے مانسون سیشن کے پہلے دن آج اسمبلی احاطے میں حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار کی قیادت میں کانگریس کے اراکین اسمبلی نے کسانوں کے مسائل کو لے کر زبردست مظاہرہ کیا۔ کانگریس ایم ایل ایز نے ریاست میں جاری کھاد کے بحران، سرکاری خریداری میں بے ضابطگیوں، اور کسانوں کو مناسب معاوضہ و ایم ایس پی نہ ملنے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔
مظاہرے کے دوران کانگریس اراکین اسمبلی نے وزیرِ اعلیٰ موہن یادو، مرکزی وزیرِ زراعت شیوراج سنگھ چوہان اور ریاست کے وزیرِ زراعت ایدل سنگھ کنشانہ کے ماسک پہن کر علامتی احتجاج درج کرایا۔ اس موقع پر حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف جم کر نعرے بازی کی گئی۔ حزب اختلاف رہنما امنگ سنگھار نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کا کسان سنگین بحران سے گزر رہا ہے، لیکن حکومت حل نکالنے کے بجائے صرف فائل فائل کھیل رہی ہے۔ کسانوں کو وقت پر نہ کھاد مل رہی ہے اور نہ ہی بیج۔
انہوں نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ موہن یادو زمین خریدنے میں مصروف ہیں، مرکزی وزیرِ زراعت صرف وزیرِ اعظم کی تعریفوں میں لگے ہیں، جبکہ ریاست کے وزیرِ زراعت کسانوں کی پریشانیاں حل کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
کسان کھاد کے لیے لمبی لائنوں میں کھڑا ہونے اور اپنی پیداوار کی مناسب قیمت و معاوضے کے لیے بھٹکنے پر مجبور ہے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ کسانوں کے حقوق اور انصاف کی یہ لڑائی سیشن سے لے کر سڑک تک جاری رہے گی، اور اگر مسائل جلد حل نہ ہوئے تو ریاست بھر میں وسیع عوامی تحریک چلائی جائے گی۔









