ممبئی11جولائی: مہاراشٹر اسمبلی میں منظور کیے گئے ’مہاراشٹر اسپیشل پبلک سکیورٹی بل‘ پر کانگریس اور این سی پی (شرد پوار گروپ) نے سخت اعتراض کیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما وجے وڈیٹیوار نے اس بل کو عوامی آواز دبانے کی ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس کے ذریعے اپنے ناکام فیصلوں پر اٹھنے والی تنقید کو دبانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ بل عوامی حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی پر سیدھا حملہ ہے۔ اگر کوئی شاعر، استاد یا صحافی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے تو کیا اسے بھی اس قانون کے تحت ملک دشمن قرار دیا جائے گا؟‘‘ وڈیٹیوار نے مزید الزام لگایا کہ حکومت ایسے قوانین کے ذریعے آئینی اقدار کو کمزور کر کے منوسمرتی کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے قوانین کی مخالفت کریں جو مذہبی تفریق اور سیاسی انتقام کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس سڑک سے لے کر ایوان تک اس بل کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی۔ این سی پی (ایس پی) کے رہنما روہت پوار نے بھی بل کے مبہم نکات پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نکسلی سرگرمیوں کی مخالفت کرتی ہے اور اسی جذبے کے تحت بل کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا، مگر اس میں کچھ شقیں ایسی ہیں جن کا غلط استعمال ممکن ہے۔ روہت پوار کے مطابق، ’’ہم نے ایوان میں بل میں شامل ’گروپ‘ اور ’فرد‘ کی تعریف کے ابہام کی نشان دہی کی اور حکومت سے وضاحت مانگی مگر کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا۔ کل کوئی اور حکومت آئے تو وہ اس قانون کا استعمال سیاسی انتقام کے لیے کر سکتی ہے۔‘‘








