نئی دہلی19جنوری: نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ پریس بریفنگ میں راجستھان کانگریس کے صدر گووند ڈوٹاسرا اور اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٹیکارام جولی نے ریاست میں اسپیشل انٹینسِو ریویژن یعنی ایس آئی آر کے عمل پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ دونوں رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر کے نام پر ووٹروں کی فہرست میں منظم انداز سے چھیڑ چھاڑ کی گئی اور اس کا مقصد کانگریس کی حمایت کرنے والے ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ہے۔ گووند ڈوٹاسرا نے کہا کہ ایس آئی آر کے بعد جو ڈرافٹ لسٹ جاری ہوئی، اس میں 45 لاکھ افراد کو غیر حاضر، منتقل شدہ یا متوفی کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ ان کے مطابق اس فہرست پر اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 15 جنوری مقرر کی گئی تھی اور 3 جنوری تک پورا نظام معمول کے مطابق چل رہا تھا۔ تاہم ان کا الزام ہے کہ 3 جنوری کو بی جے پی کے اعلیٰ تنظیمی عہدیدار کے ریاستی دورے کے بعد صورتحال بدل گئی اور جعلی طریقوں سے ووٹ جوڑنے اور کاٹنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ انہوں نے انتخابی کمیشن کی ویب سائٹ سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 17 دسمبر سے 14 جنوری کے درمیان بی جے پی کے بی ایل ایز کے ذریعے سینکڑوں نام جوڑنے اور ہزاروں نام حذف کرنے کی درخواستیں دی گئیں، جبکہ کانگریس کی جانب سے بہت محدود تعداد میں درخواستیں داخل ہوئیں۔ ڈوٹاسرا کے مطابق جھنجھنو، منڈاوا، اُدے پور واٹی اور کھیتڑی جیسے علاقوں میں ایک ہی دن میں ہزاروں فارم جمع کرائے گئے، جو قواعد کے بالکل برخلاف ہے۔ کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ 13 جنوری کو مرکزی وزیر داخلہ کے ریاستی دورے کے بعد نام کاٹنے کی رفتار میں غیر معمولی تیزی آئی۔ ان کے بقول ہر اسمبلی حلقے میں ہزاروں کمپیوٹرائزڈ فارم پرنٹ کیے گئے، جن پر جعلی دستخط ثبت تھے، اور انہیں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے دفاتر میں جمع کرایا گیا۔