بھوپال، 3 جولائی: گزشتہ دنوں ڈی جی پی کے ذریعہ دئے گئے بیان کو لیکر کانگریس مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ جمعرات کو بھوپال میں کانگریس نے رسی سے ہاتھ باندھ کر انوکھا احتجاج کیا۔ ریاستی کانگریس کے میڈیا صدر مکیش نائک اور کانگریس کے ترجمان متھن اہیروار نے پی سی سی میں پریس کانفرنس کی۔ اس دوران متھن اہیروار نے کہا کہ بی جے پی ڈیجیٹل انڈیا کی نہیں بلکہ ڈیجیٹل ٹریپ کی حکومت ہے۔ وہ آن لائن سٹہ، جعلی لون ایپس اور ڈیجیٹل فراڈ پر کھلی چھوٹ دے کر اپنی حکومت بچا رہی ہے۔ اس دوران کانگریس نے بی جے پی کے نئے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال سے سوالات پوچھے ہیں۔
کانگریس کے میڈیا صدر مکیش نائک نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں روزانہ 20 ریپ ہو رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے ڈی جی پی یہ بیان دے رہے ہیں کہ عصمت دری کو روکنا اکیلے پولیس کے اختیار میں نہیں ہے۔ اگر پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں تو کیا ڈی جی پی نے مان لیا ہے کہ حکومت نے عصمت دری کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ پرفیکٹ ہو جائے گا تو پھر پولیس کی ضرورت کیوں پڑے گی۔کانگریس کے ترجمان متھن اہیروار نے بی جے پی کے نئے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کو ’بندھے ہاتھ والا صدر‘ قرار دیا۔ کچھ معاملات کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی صدر ان سنگین مسائل پر خاموش ہیں تو کیا ان کی تقرری صرف پوسٹنگ اور ٹرانسفر مینجمنٹ کے لیے کی گئی ہے۔ حکومت ڈیجیٹل سٹہ اور لون ایپس پر خاموش رہ کر پیسہ کما رہی ہے اور لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔
کانگریس نے سوال کیا کہ ڈی جی پی کے بیان پر وزیراعلیٰ کو وضاحت دینی چاہئے کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے یا حکومت کی پالیسی۔ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ فرضی لون ایپس، ڈیجیٹل فراڈ اور آن لائن سٹے بازی کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی جائے۔سائبر سیل کو مضبوط بنا کر سخت قوانین پر عملدرآمد کیا جائے۔









