نئی دہلی 23جنوری: سپریم کورٹ نے جمعہ (23 جنوری) کو ایک وکیل کی سخت سرزنش کی ہے۔ وکیل کے خلاف جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جج کے ساتھ تیکھی بحث کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، جسے لے کر وہ سپریم کورٹ پہنچے تھے۔ ’این ڈی ٹی وی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ مہیش تیواری نے گزشتہ سال 16 اکتوبر کو ایک معاملے کی سماعت کے دوران جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے جج جسٹس راجیش کمار کے ساتھ سخت بحث کی تھی، جس میں انہوں نے جج سے کہا تھا کہ وکیلوں کو دبانے کی کوشش کریں، اپنی حد میں رہیں۔ اس کے متعلق جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔مہیش تیواری کی عرضی پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ان کو جم کر پھٹکار لگائی اور کہا کہ ’’یہ بس توہین عدالت کی کارروائی کے خلاف سپریم کورٹ سے حکم لے کر یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کیا بگاڑ لیا میرا۔‘‘ عدالت نے کہا کہ ’’اگر یہ معافی مانگنا چاہتے ہیں تو انہیں معافی مانگنی چاہیے، اگر یہ ججوں کو آنکھ دکھانا چاہتے ہیں تو ایسا کر سکتے ہیں، لیکن ہم بھی یہاں بیٹھے ہیں اور پھر ہم بھی دیکھیں گے۔‘‘ حالانکہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے کہا کہ اگر وکیل ان سے معافی مانگتے ہیں تو وہ ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ گزشتہ سال 16 اکتوبر کا ہے، جب ایڈووکیٹ جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں اپنی موکلہ کا مقدمہ لڑ رہے تھے۔ 1.30 لاکھ روپے کا بجلی بل بقایا ہونے کے کی وجہ سے ان کی موکلہ کے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی تھی۔ ایڈووکیٹ مہیش تیواری نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ ان کی موکلہ 25 ہزار روپے جمع کرنے لیے تیار ہیں، تاکہ ان کا کنکشن بحال کر دیا جائے۔ حالانکہ جسٹس راجیش کمار نے کہا کہ ان کی موکلہ کو 50 فیصد بل جمع کرانا ہوگا، تبھی کنکشن واپس ملے گا۔ اس کے بعد مہیش تیواری اس بات پر تیار ہوئے کہ ان کی موکلہ 50 ہزار روپے جمع کرائیں گی۔ جب پورے معاملہ کا تصفیہ ہو گیا تب ایڈووکیٹ مہیش تیواری کی جسٹس راجیش کمار سے تلخ کلامی ہو گئی۔