نئی دہلی23نومبر: ہندوستان کے 52ویں چیف جسٹس (سی جے آئی) بی آر گوئی نے اپنا مقررہ دورانیہ مکمل کر لیا ہے اور اتوار کو وہ باقاعدہ طور پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ سبکدوشی سے عین قبل منعقد ہونے والی الوداعی تقریب میں انہوں نے مختلف اہم سوالات، عدلیہ کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ چیف جسٹس نے واضح طور پر کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کسی بھی طرح کے سرکاری عہدے کو قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق انصاف کی ذمہ داری نبھانے کے بعد سرکاری منصب لینا مناسب روایت نہیں ہے اور وہ اس اصول پر قائم رہیں گے۔ اپنے مستقبل کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بی آر گوئی نے بتایا کہ وہ پہلے دس دن آرام کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے بعد اپنی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی خدمت ان کے خون میں شامل ہے اور وہ خاص طور پر قبائلی علاقوں میں فلاحی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق پسماندہ خطوں میں بنیادی سہولتوں، تعلیم اور انصاف تک رسائی جیسے شعبوں میں بہت کام کیے جانے کی ضرورت ہے اور وہ اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ آزادیٔ عدلیہ کے حساس موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ اگر کوئی جج حکومت کے حق میں فیصلہ دے تو اسے غیر آزاد قرار دے دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی فیصلے قانون اور دستور کی بنیاد پر لیے جاتے ہیں اور کسی بھی فیصلے کو سیاسی زاویے سے جانچنا مناسب نہیں۔
ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی ایک بنیادی قدر ہے اور وہ اس کے تحفظ کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے ہیں۔