10؍اگست 1950 کے دن کو دلت مسلم اور دلت کریسچین اگر یوم سیاہ کہیں تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ جمہوری ملک میں جس طرح آئینی تفریق اس دن کی گئی وہ قابل افسوس ہے اور اس سے بڑھ کر شرمناک بات یہ ہے کہ آج تک کسی نے بھی یہاں تک کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے بھی اسے ختم کرنے کی بات نہیں کی۔جو دلت مسلم اور دلت کریسچین کے ساتھ ہوا ہے۔
جی ہاں! بھارت کے سبھی اقلیت سماج جنہیں SC-ST زمرے میں ہونا چاہئے تھا آئینی تفریق کی بنیاد پر 10؍اگست 1950ہی کو آئین کی دفعہ 341کے تحت خاص کر مسلم دلت ، کریسچن دلت کو محروم کر دیا گیا۔ آج جو بھی سیاسی پارٹیاں جئے سنودھان اور سنودھان (آئین) بچائو کا نعرہ لگاتے ہیں جب ایس سی -ایس ٹی ، دلت مسلم، او بی سی مسلم کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تو اندھے ، بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین بچائو محض ایک نعرہ ہے جس کی آڑ میں اقلیت ، ایس سی ایس ٹی اور دلت پسماندہ کا استحصال کیا جارہا ہے اور ان طبقات کی حیثیت اس ملک میں محض ووٹ بینک کی رہ گئی ہے۔
معلومات کے مطابق ابھی حال ہی میں بڑے بڑے نیتا اور لیڈران پارلیمنٹ میں آئین کو پیشانی سے لگائے ہوئے دیکھے گئے لیکن انہیں لوگوںنے NCERTکی کتابوں سے بھارت کی پراستھاونا کو ہٹادیا ہے جس میں یہ تمام باتیں کہی گئی کہ یہ ملک جمہوری ہے اس میں مذہب کی بنیاد پر ، زبان کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں کی جائے گی،سب کو برابر کے حقوق دئیے جائیںگے لیکن اب اس پیش لفظ کو ہی کتابوں سے ہٹا دیا گیا ہے جس پر کوئی آواز بلند کرنے والا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی احتجاج کر رہا ہے۔
ایک طرف جہاں ایس سی -ایس ٹی ، دلت و پسماندہ مسلم اور کریسچین کو آئینی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے وہیں دوسری طرف ایس سی -ایس ٹی ایم پی جنہیں یہ تمام طبقات اپنا بھائی کہتے ہیں وہ بھی ان کے لئے آواز بلند نہیں کر رہے ہیں،یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ایم پی بھی انہیں پسماندہ طبقات کی مدد سے بنے ہیں لیکن آج وہ بھی انہیں نظرانداز کر رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ؎
دلت دلت ایک سمان-چاہے ہندو ہو یا مسلمان:
یہ محض ایک نعرہ ہے جس عملی جامہ پہنانے کی کوئی بات نہیں کر رہا ہے۔ دلت مسلم، او بی سی مسلم کو اتحاد و اتفاق بہت ضروری ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ساتھ مل کر تعلیم ، تجارت، روزگار، روزی روٹی اور اپنے تحفظ کے لئے ایک دوسرے کا تعاون کریں اور ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پر آکر سماجی اور سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں اوراس کے ساتھ ساتھ اپنی لیڈرشپ تیار کریں۔آنے والے انتخابات کے ایجنڈے میں 1950 کے صدارتی آرڈر کو ختم کرنے کا مطالبہ شامل کریں۔ ذاتی مردم شماری کی بات کی جائے اور آئینی حقوق کے لئے آواز بلند کی جائے اور آنے والی 10اگست کو پورے بھارت میں دلت کریسچین اور دلت مسلم یوم احتجاج کے طور پر منائے تاکہ 1950کے صدارتی حکم کو منسوخ کیا جائے ۔
10اگست کے دن محض رسمی احتجاج سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک تحریک بننی چاہیے—ایسی تحریک جو پسماندہ طبقات کو بیدار کرے، خوداحتسابی پر مجبور کرے، اور نفرت کے جواب میں محبت پھیلائے۔
اس حکم نامے کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پسماندہ طبقات کے رہنمائوں کے لئے ضروری ہے کہ محض دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے خود کچھ کام کرکے دکھائیں جس طرح پسماندہ رہنمائوں علی حسین عاصم بہاری، عبدالقیوم انصاری، بخت میاں انصاری وغیرہ نے ملک و ملت کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اسی لگن اور محنت کے ساتھ آج کے لیڈران کو بھی آواز بلند کرنی ہوگی۔ تمام پسماندہ لیڈرس کے لئے آواز بلند کرنا چاہئے کہ عبدالقیوم انصاری کو بھارت رتن دیا جائے، علی حسین عاصم بہاری کو صحیح مقام و مرتبہ دیا جائے اور بخت میاں انصاری کو ۳۵؍ بیگھہ زمین جس کا وعدہ صدر جمہوریہ نے کیا تھا وہ دی جائے ۔
آج پسماندہ برادریوں کی ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں تنظیمیں وجود میں آ چکی ہیں، لیکن افسوس کہ ان تنظیموں کی اکثریت محض نمائشی سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ جلسے، سیمینار، یادگار تقریبات اور رسمی بیانات تو اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر جب بات بنیادی مسائل—تعلیم، روزگار، سیاسی نمائندگی، ریزرویشن ، آبادی کے تناسب سے ٹکٹ کی تقسیم یا 1950 کے صدارتی حکم جیسے اہم معاملات—پر دو ٹوک موقف اپنانے کی آتی ہے تو قیادت خاموش دکھائی دیتی ہے۔
اس خاموشی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر پسماندہ رہنما جب کسی سیاسی پارٹی کا حصہ بنتے ہیں تو وہ اپنے طبقے کے مفادات کو ترجیح دینے کے بجائے پارٹی کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ ان کی سیاست اپنی برادری کی بجائے پارٹی کی پالیسیوں کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ نتیجتاً وہ اپنی پہچان کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی قیادت نمائندہ قیادت نہیں رہتی بلکہ محض پارٹی ترجمان بن کر رہ جاتی ہے۔
یاد رکھنا چاہئے کہ جس طرح منووادی اور پونجی وادی عناصر ہر سطح پر نہ صرف منظم ہیں بلکہ اپنے نظریاتی ایجنڈے پر سختی سے قائم بھی ہیں، اُسی طرح پسماندہ برادریوں کو بھی بکھرے ہوئے جذبات سے نکل کر ایک متحد، واضح اور حقیقت پسندانہ ایجنڈا تیار کرنا ہوگا۔ ایسا ایجنڈا جو سب کا مشترکہ ہو ۔ نیز ہمیں ایسی قیادت پیدا کرنا ہوگی جو واقعی میں پارٹی وابستگی سے اوپر اٹھ کر اپنی قوم، برادری اور طبقے کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھے ناکہ پیسوں اور عہدوں کے عوض بک جائے ۔ کیونکہ جب تک ہم اپنے اندر سے ایسی قیادت پیدا نہیں کریں گے ،تب تک پسماندہ قیادت کا قیام محض ایک خواب ہی رہے گا۔
ورنہ کیا وجہ ہے کہ آج ہر طرف پسماندہ طبقات پر ظلم و زیادتی ہو رہی ہیں اور کوئی بولنے والا نہیں ہے؟ محسن گاندھی بخت میاں عرف بطخ میاں انصاری کو آج تک انصاف کیوں نہیں ملا؟ حکومت ہند کے صدر جمہوریہ کے آرڈر کو آج تک کوئی حکومت، کوئی سرکار کیوں نہیں پورا کر پارہی ہے؟ کیا پسماندہ کی تمام تنظیموں نے کبھی اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کری؟نہیں! کیونکہ پسماندہ طبقات کا کوئی مشترکہ ایجنڈا نہیں ہے ۔
وزیر اعظم نے بھی دو سال قبل پسماندہ کا ذکر کیا تھا نیز ان کی پسماندگی پر افسوس ظاہر کیا تھا لیکن وہ بھی محض جملہ ہی ثابت ہوا ، کیونکہ اگر واقعی وزیر اعظم اپنی فکر میں سچے ہیں تو پھر 1950کے صدارتی حکم کو ختم کرنے کی بات کیوں نہیں کرتے؟
آج تمام پسماندہ طبقات اور تنظیموں کو چاہئے کہ جب تک آئینی تفریق کرنے والا 1950 کا صدارتی حکم ختم نہ ہو جائے اس کے لئے تحریک چلاتے رہیں اور آنے والے تمام انتخابات (Elections) میں اسے مدعہ بنایا جائے۔









