ڈارون، 12 اگست (یو این آئی) ڈیووالڈ بریوس نے ڈارون کے مارارا کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی 20 میچ میں صرف 56 گیندوں پر ناٹ آوٹ 125 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر جنوبی افریقہ کو آسٹریلیا کے خلاف 53 رنز سے شاندار فتح دلائی۔ 12 چوکوں اور 8 چھکوں سے سجی اس شاندار اننگز نے نہ صرف تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی بلکہ آسٹریلیا کی ٹی 20 میچوں میں مسلسل 9 فتوحات کا سلسلہ بھی توڑ دیا۔ جنوبی افریقہ کو بلے بازی کی دعوت ملنے کے بعد ساتویں اوور میں اس کا اسکور 57/3 تھا۔ محض 20 گیندوں کے اندر رائن رکلیٹن (14)، ایڈن مارکرم (18) اور لوان-ڈری پریٹوریئس (10) کے وکٹ گنوا کر وہ ایک بار پھر پرانے بحران میں پھنس گئے۔ تاہم، 21 سالہ بریوس نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔بریوس کو ٹرِسٹن ا سٹبز (22 گیندوں پر 31 رنز) کی صورت میں ایک بہترین ساتھی ملا اور دونوں نے چوتھے وکٹ کے لیے صرف 9.3 اوور میں 126 رنز کی شراکت قائم کی۔ یہ پارٹنرشپ جنوبی افریقہ کی واپسی کی بنیاد بنی، جس میں بریوس نے اپنے تمام دلکش اسٹروکس کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ 223.21 کے اسٹرائیک ریٹ نے آسٹریلوی باؤلنگ پر ان کے قہر کو ظاہر کیا۔نوجوان دائیں ہاتھ کے بلے باز نے خاص طور پر گلین میکسویل کو نشانہ بنایا، جنہیں انہوں نے لگاتار 6، 6، 4، 6 مار کر نصف سنچری مکمل کی اور یہ کارنامہ انجام دینے والے تیسرے کم عمر ترین جنوبی افریقی بلے باز بن گئے۔ اس کے بعد بھی ان کی اننگز کی رفتار کم نہ ہوئی۔ محض 16 گیندوں میں انہوں نے 50 سے 100 رنز تک کا سفر طے کیا اور جنوبی افریقہ کی جانب سے دوسرا تیز ترین ٹی 20 انٹرنیشنل سنچری اور آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی بلے باز کی تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ 17ویں اوور میں ایڈم زمپا کی گیند پر ا سٹبز کے آؤٹ ہونے کے بعد بھی بریوس نے اپنا حملہ جاری رکھا اور آخر تک ناٹ آوٹ رہے۔
جنوبی افریقہ کا 218/7 کا اسکور آسٹریلیا کے خلاف ان کا سب سے بڑا ٹی 20 انٹرنیشنل اسکور ثابت ہوا، جو بریوس کی ریکارڈ ساز اننگز کی بدولت ممکن ہوا۔ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کی اننگز مشکلات کا شکار رہی۔ میزبان ٹیم نے دوسرے اوور میں ایڈن مارکرم کی گیند پر ٹریوس ہیڈ (5) کا وکٹ گنوا دیا، جس کے بعد کیمرون گرین (9) کو کوینا مافاکا کی گیند پر نکابایومزی پیٹر نے مڈوکٹ پر شاندار کیچ تھاما۔ اگرچہ وہ گرنے کے دوران کچھ ڈگمگائے، لیکن تیسرے امپائر نے کیچ کو درست قرار دیا۔مچل مارش اور ٹم ڈیوڈ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے 48 رنز کی شراکت داری کی، مگر ڈیوڈ کوربن بوش کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس سے قبل انہوں نے صرف 23 گیندوں پر چار چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے نصف سنچری مکمل کر کے ٹیم کو جیت کی جانب بڑھانے کی کوشش کی، لیکن کگیسو ربادا کی ایک سخت گیند کو کور پر کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے اور ٹیم کی رفتار تھم گئی۔ دسویں اوور میں 104/4 کے اسکور پر نچلے بلے باز جلد آؤٹ ہوتے گئے اور آسٹریلیا کی رفتار مزید کم ہو گئی، جہاں بوش اور مافاکا نے تین تین وکٹیں حاصل کیں۔
اب سیریز کا فیصلہ کن تیسرا ٹی 20 میچ 16 اگست کو کیئرنز میں کھیلا جائے گا۔ اسکور: جنوبی افریقہ 218/7 (ڈیووالڈ بریوس ناٹ آؤٹ 125) نے آسٹریلیا کو 165 پر آل آؤٹ (ٹم ڈیوڈ 50؛ کوربن بوش 3-20) سے 53 رنز سے شکست دی۔
ممکنہ دو سطحی ڈبلیو ٹی سی نے ویسٹ انڈیز کرکٹ کی تشویش بڑھائی
نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) اگر آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کے لیے دو سطحی نظام (ٹو ٹیئر سسٹم) نافذ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ویسٹ انڈیز سرفہرست ٹیموں سے باہر ہو سکتی ہے، کیونکہ ڈبلیو ٹی سی کے تینوں ایڈیشن میں ویسٹ انڈیز نو ٹیموں میں آٹھویں نمبر پر رہی تھی اور موجودہ ڈبلیو ٹی سی سائیکل میں بھی ویسٹ انڈیز کو آسٹریلیا کے خلاف تینوں ٹیسٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دو سطحی نظام کے امکان نے ویسٹ انڈیز کرکٹ کےفریقوں کو تشویش میں ڈال دیا ہے اور کرکٹ ویسٹ انڈیز (سی ڈبلیو آئی) کے چیف ایگزیکٹو کرس ڈیہرنگ نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کے متعلقہ فریق اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
اتوار اور پیر کو ٹرینیڈاڈ میں ہونے والی سی ڈبلیو آئی کی ہنگامی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیہرنگ نے کہا، ’’اس معاملے میں ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا، ہمیں آئی سی سی کے سامنے اپنی بات رکھنی ہوگی۔ ہمیں تمام ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا اور ویسٹ انڈیز کرکٹ کے طور پر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ حالات جیسے بھی ہوں ہم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔‘‘