نام کتاب : قدرت کے شاہ کار نظارے
نام مصنف : عبدالودود انصاری۔ شاداب منزل ، مکان نمبر 43/2 ، گلی نمبر 6 ، کانکی نارہ ۔ 343126 (مغربی بنگال) موبائل : 9674895325
ناشر : پبلی کیشن 120، کساب چندن مین اسٹریٹ ، کولکتہ
اشاعت : 2025ء صفحات : 280 قیمت : Rs.230/-
مبصر : پروفیسر رفیع الدین ناصر ۔ اورنگ آباد (مہاراشٹر) موبائل : 942211634
عبدالودود انصاری
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔ جابجا ہم کو قدرت کے شاہ کار نظر آتے ہیں۔ ہم ان قدرتی نظاروں کو دیکھ کر اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں یا اُس کی گہرائیوں میں کھوکر اُس میں چھپے رازوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ قدرت کی اس حسین و جمیل کائنات میں موجود خوش نما اور دلفریب نظاروں کو دیکھ کر بے شک انسانی آنکھیں حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ حکم ہوا کہ ان نظاروں کو دیکھو، سمجھو اور اس میں چھپے ہوئے رازوں کو جانو اور قدرت کی اس صناعی کی حمد و ثنا کرو۔ سمندر کی بے کرانی، دشت کی بیابانی، جھرنوں کی نغمہ سرائی، ژالوں کی ٹھنڈک ، چشموں کی روانی، جزیروں کا حسن، ریگستان کی رعنائی، پہاڑوں کے قدوقامت یقینا ایسے شاہ کار ہیں جنھیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ان شاہ کار کی تخلیق، اُن کا وجود ، اُن کی خوبصورتی اور اس میں مخفی رازوں کو عبدالودود انصاری نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جانا اور عام فہم انداز میں اردو قاری کے لئے اپنی ۴۴ویں کتاب ’’قدرت کے شاہ کار نظارے‘‘ میں انتہائی دلچسپ انداز میں پیش کیا۔
اردو دنیا میں عبدالودود انصاری کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ وہ گوناگوں خوبیوں کے مالک ہیں، وہ ایم ایس سی ریاضی و ایم ایڈ کی قابلیت کے ساتھ دیگر کئی علوم کے ماہر ہیں۔ وہ سائنس کے ساتھ ساتھ ادبی و شاعرانہ مزاج بھی رکھتے ہیں۔ پانچ سو سے زائد سائنسی مضامین ، ۴۴؍سے زائد سائنسی کتابوں کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا وہ سائنس کے طالب علم رہے ہیں یا ادب کے ۲۵؍سے زائد ایوارڈس کے مالک عبدالودود انصاری سائنس کی حقیقتوں کو عام اردو قاری چاہے بچے ہوں یا بڑے، ہر ایک کے لئے انتہائی سادہ آسان اور سلیس زبان میں پیش کرتے ہیں اُس پر ادب کی چاشنی ان تحریروں کو مزید دلچسپ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو سائنسی دنیا میں ان کا نام بڑے اہتمام سے لیا جاتا ہے اور ملک کے مختلف ادارے اُن کی کتابوں کو بڑے احترام کے ساتھ نہ صرف شائع کرتے ہیں بلکہ اعزاز سے بھی سرفراز کرتے ہیں۔
عبدالودود اصناری کی موجودہ کتاب ’’قدرت کے شاہکار نظارے‘‘ اُن کے قلم سے نکلی ہوئی ۴۴؍ویں کتاب ہے۔ اردو دنیا میں قلمکار ایک یا دو کتابوں کی اشاعت کے بعد کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے لیکن ۴۴؍ویں کتاب کی اشاعت مصنف کی جستجو، لگن، محنت کے ساتھ ساتھ کامیاب تحریروں کی ضمانت ہے جس کو نہ صرف اردو دنیا نے اب تک ہاتھوں ہاتھ لیا بلکہ اعزاز سے بھی نوازہ ہے۔ کتاب ’’قدرت کے شاہ کار نظارے‘‘ کی تالیف کے سلسلہ میں مصنف خود رقمطراز ہیں کہ ’’اللہ چاہتا ہے کہ انسان اس کے تخلیق کردہ تمام عناصر سے بھرپور محظوظ ہو۔ وہ سمندر ، دریا ، پہاڑ ، جھیل ، جھرنا، جزیرہ، ژالہ ، دشت، آئس، برگ ، نخلستان وغیرہ سے فائدہ اٹھائے اور اس کی قدرت ، وحدانیت اور عظمت کا قائل ہوجائے۔ میں نے اپنی کتاب ’’قدر کے شاہکار نظارے‘‘ میں ایسے ہی چند قدرتی اشیاء کے سلسلے میں معلومات فراہم کی ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر بچوں کی ذہنی آبیاری کے لئے لکھی گئی ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ذی شعور افراد بھی اس سے استفادہ ضرور کریں گے۔‘‘
اس کتاب کی ہم جب ورق گردانی کرتے ہیں تو قدرت کے ان شاہ کار نظاروں کے بارے میں وہ معلومات حاصل ہوتی ہیں جن سے ہم واقف نہیں تھے۔ اس کتاب کے مقدمہ میں محترمہ فاطمہ زہرہ (سابق پرنسپل ، ڈاکٹر ذاکر حسین کالج اورنگ آباد) نے تحریر کیا کہ ’’مصنف نے قدرت کے حسین امتزاج کو کچھ اس انداز میں پیش کیا کہ پڑھنے والا محوحیرت ہو کر قدرت کی کاریگری پر ایمان لے آتا ہے ، جیسے یہ شمس و قمر، یہ شجر و حجر، یہ گل و ثمر، یہ کوہ و بحر ، یہ بجلی و گھٹائیں، یہ سردہوائیں، یہ پُرکیف فضائیں، یہ آبشار و جھرنے ، یہ ستارے، سیارے، یہ دریا و ندیاں، یہ لہروں کی روانی، یہ بارش کا پانی، یہ دھنک ، آسماں، یہ طلوع و غروب کا سماں، یہ دشت بے کراں، یہ صحرا و ساحل اور ساحل پر ریت وغیرہ کے پُرکیف نظارے سبھی دنیا کی زینت ہیں۔ اس عبارت میں ریاضی داں مصنف کا شاعرانہ ذوق عود کر باہر آتا ہے۔ کتاب کا ہر ایک باب اپنے آپ میں بے پناہ معلومات کا خزانہ ہے۔ فاضل مصنف نے ہر ایک قدرتی شاہ کار کے بارے میں انتہائی اچھوتی معلومات کو بہت انفرادی انداز میں پیش کی ہیں جس کی نظیر نہیں ملتی ہے۔ اس پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ قابل مصنف نے ہر ایک قدرتی شاہ کار کا باب کے ابتداء میں تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد یہ شاہ کار کیا ہے؟ اس کی معلومات اُس کے بعد عمومی معلومات اور خاصیت کی وضاحت کی، اس کے بعد اس شاہ کار کے مختلف اقسام کے بارے میں خامہ فرسائی کی۔ اس کے بعد مصنف نے ان شاہ کار کی عالمی معلومات، ہندوستانی شاہ کار کی معلومات ، سوال و جواب کے انداز میں پیش کیا تاکہ ہمارے وہ طلباء جو مسابقتی امتحانات میں شرکت کررہے ہیں اُن کو ان شاہ کار کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے اور باب کے آخر میں مصنف نے ان شاہ کار کے بارے میں مشہور Quotations کو کچھ اس دلچسپ انداز میں پیش کیا کہ پڑھنے والے ہر قاری پر باب کو ابتداء سے انتہاء تک پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔
عبدالودود انصاری نے ہر ایک باب کو سائنسی اشعار سے مربوط کیا ہے۔ اس سے پڑھنے کا لطف دوبالا ہوتا ہے۔ ہر ایک باب اپنے آپ میں مکمل معلوماتی خزانہ ہے جس کو ملک کے مختلف اخبارات و رسائل نے جب شائع کیا، اُس کی وضاحت فاضل مصنف نے ہر باب کے آخر میں پیش کی ہے۔ پوری کتاب قدرتی عظیم شاہ کار جیسے سمندر، جھیل، پہاڑ، جھرنا، جزیرہ، ژالہ ، دریا، ریگستان، نخلستان ، جنگل، آئس برگ، نہر، ڈیم، قوس قزح ، بھنور، آتش فشاں، گلیشیر ، شبنم ، لہر، بادل ، بجلی، طوفان، لُو ، کہر وغیرہ ، جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو اپنے عزیز دوست محمدبشیر کے نام معنون کیا۔ اسی کے ساتھ اپنی بات میں انھوں نے افراد خانہ کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سائنسی رفقاء کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ اس سے ان کی انکساری کا پتہ چلتا ہے۔
معلمہ نشاط کوتوال (کساب کھیڑہ اورنگ آباد) کی ایما پر جب راقم نے اس کتاب کے تعلق سے ویڈیو تبصرہ پیش کیا جس کو معلمہ نے وائرل کیا تو اُس کے بعد سے اس کتاب کی مانگ بڑھ گئی اور چند کاپیاں بچی ہیں۔ اس لئے اردو کے ہر ایک باذوق قاری نے نہ صرف اس کتاب کو خریدنا چاہئے بلکہ اپنے گھر ، محلہ یا شہر کے بچوں تک پہنچانا چاہئے۔ مصنف نے ان کے موبائل نمبر 9674895325 پر ربط قائم کر کے رعایتی قیمت پر کتاب حاصل کی جاسکتی ہے۔ کتاب بہترین گیٹ اپ ، ہارڈ بائنڈنگ ، عموہ کاغذ پر طبع شدہ ہے جو مصنف نوپرافٹ نولاس کی بنیاد پر فراہم کررہا ہے۔
عبدالودود انصاری قابل مبارکباد اس لئے ہے کہ انھوں نے اس طرح کی عظیم کتاب شائع کر کے اردو کے قد میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس طرح کے کارِخیر کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) (غیرمطبوعہ)
Prof. Rafiuddin Naser
(National Awardee Teacher)
Romaan Villa, Dilras Colony, 36, Wajd Road, Asef Bagh, Ghati, Aurangabad-431001 (MS)
Email : rafiuddinnaser@rediffmail.com Mobile : 9422211634
٭٭٭









