لکھنو 8جنوری: اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک سینئر لیڈر اور جگدیش پور سے رکنِ اسمبلی سریش پاسی کے متنازع بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ نہ تو کبھی مسلم ووٹ مانگنے جائیں گے اور نہ ہی مسلمانوں کی خوشی یا غم کے مواقع پر شرکت کریں گے۔ ایک وائرل ویڈیو میں سریش پاسی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ’’میں کبھی مسجد نہیں گیا، نہ ماضی میں گیا ہوں اور نہ ہی مستقبل میں جاؤں گا۔ میں نہ مسلمانوں سے ووٹ مانگنے جاتا ہوں اور نہ ہی ان کی خوشی یا غم میں شریک ہوتا ہوں۔‘‘ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے اس رکنِ اسمبلی نے مزید کہا کہ وہ کبھی بھی مسلم گھروں میں ووٹ مانگنے کے لیے نہیں جائیں گے۔ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے خود کو اس بیان سے الگ کر لیا ہے۔ بی جے پی کے امیٹھی ضلع کے صدر سدھانشو شکلا نے کہا،’’بی جے پی کا نظریہ ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس’ ہے۔ پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ سریش پاسی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے۔‘‘ دوسری جانب کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ یہ بیان سیاسی مفاد کے تحت دیا گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا ’’جب بھی انتخابات قریب آتے ہیں، بی جے پی کے لیڈر اس قسم کے بیانات دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ بھائی کو بھائی سے، ایک مذہب کو دوسرے مذہب سے اور ایک ذات کو دوسری ذات سے لڑانے کی کوشش کرتے ہیں، صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے۔ یہ سب محض ڈرامہ ہے۔‘‘ سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر رام اودت یادو نے بھی اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ یہ نفرت پھیلانے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا،’’ہندو۔مسلم تقسیم پیدا کرنا بی جے پی کی سیاست ہے۔ سریش پاسی اسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور ووٹوں کے لیے بی جے پی کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔‘
‘ اتر پردیش میں آئندہ انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ ماضی میں بھی بی جے پی کے کئی لیڈر مذہبی بنیادوں پر متنازع بیانات دے چکے ہیں، جن پر اپوزیشن جماعتیں فرقہ وارانہ سیاست کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ سریش پاسی کا یہ بیان بھی اسی سیاسی ماحول میں سامنے آیا ہے، جسے اپوزیشن جماعتیں سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ بی جے پی قیادت نے اسے ان کا ذاتی بیان کہہ کر خود کو الگ کر لیا ہے۔