نئی دہلی 2اپریل: لوک سبھا میں بدھ (2 اپریل) کو وقف ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ پارلیمانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے یہ بل پیش کیا۔ اس دوران اپوزیشن نے بل کی مخالفت میں جم کر ہنگامہ کیا۔ پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کیے جانے کے بعد اس پر بحث شروع ہو گئی ہے اور سبھی پارٹیوں کے لیڈران اپنا نظریہ پیش کر رہے ہیں۔ دراوڑ منیتر کزگم (ڈی ایم کے) کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے اس بل کی مخالفت کی اور حکمراں جماعت بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’جس پارٹی کا ایک بھی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ہے، وہ اقلیتوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے۔‘‘ وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران بولتے ہوئے اے راجہ نے کہا کہ ’’ستم ظریفی یہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ایک ایسی پارٹی کرنے جا رہی ہے جس کا پارلیمنٹ میں ایک بھی مسلم رکن نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’آج ہندوستانی پارلیمنٹ کے لیے ایک قابل ذکر دن ہے۔ پارلیمنٹ ہماری قسمت کا فیصلہ کرے گا کہ یہ سیکولر ملک اس راستے پر چلے گا جسے آئین کے بانی نے اچھی طرح سے لکھا تھا، یا پھر ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کے ذریعہ طے کردہ منفی راستے پر چلے گا۔‘‘ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے بھی وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں آواز اٹھائی۔ انھوں نے وقف ترمیمی بل پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’’جب آپ (مودی حکومت) کوئی بل لاتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ کی نیت اور عمل یکساں نہیں ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ غیر اسٹیک ہولڈرز کو بھی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں شامل کیا گیا تھا۔ تب ہمارے وزیر اعلیٰ کو لے کر سوال کیا گیا تھا کہ کیا شیو سینا (یو بی ٹی) ہندوتوا کے ساتھ کھڑی ہوگی؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مہاراشٹر میں ہم نے سوغاتِ مودی کو ہوتے دیکھا، اور اب سوغاتِ وقف بل ہو رہا ہے۔
کیا یہ اقلیتوں کے تئیں اچانک اُمنڈنے والا پیار ہے؟ نہیں، مجھے لگتا ہے کہ یہ سب بہار کے انتخاب کو ذہن میں رکھ کر کیا جا رہا ہے۔‘‘